کترینہ کیف اور وکی کوشل کے ہاں بیٹے کی پیدائش
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
بالی ووڈ کے مشہور جوڑے کترینہ کیف اور وکی کوشل نے اپنے پہلے بچے کی پیدائش کا اعلان کر دیا ہے۔
وکی کوشل نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری مداحوں کو سُنائی۔
View this post on Instagram
A post shared by Vicky Kaushal (@vickykaushal09)
اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا تانتا بندھ گیا۔ شوبز شخصیات اور مداحوں نے تبصرے کرتے ہوئے انہیں مبارک باد پیش کی۔
واضح رہے کہ یہ جوڑا 9 دسمبر 2021 کو راجستھان میں شادی کے بندھن میں بندھا تھا۔ کترینہ کیف کے حاملہ ہونے کی خبریں اپریل 2022 اور 2023 میں بھی سامنے آئی تھیں، تاہم اداکارہ کے قریبی ذرائع نے ان خبروں کی تردید کی تھی۔ 15 ستمبر 2025 کو کترینہ اور وکی کوشل نے انسٹاگرام پر اعلان کیا تھا کہ وہ زندگی کے سب سے خوبصورت باب کا آغاز کرنے جا رہے ہیں اور ان کے دل خوشی اور شکرگزاری سے بھرے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ کترینہ کیف کترینہ کیف بیٹا وکی کوشک بیٹا وکی کوشل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ کترینہ کیف وکی کوشک بیٹا وکی کوشل کترینہ کیف وکی کوشل
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔