11.11 سیل میں شاندار آفر، گولڈ پلیٹڈ آئی فون کتنے کا ملے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اگر آپ کبھی سونے سے مزین آئی فون خریدنے کا خواب دیکھتے رہے ہیں تو اب موقع حاضر ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ریٹیلرز نے 11.11 سیل (سنگلز ڈے) کے موقع پر زبردست پروموشنز کا اعلان کیا ہے جن میں سب سے نمایاں ایروس گروپ (Eros Group) کی پیشکش ہے:
24 قیراط سونے سے مزین آئی فون صرف 11,111 درہم میں۔
یہ آفر اپنی علامتی قیمت کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ عام دنوں میں اس فون کی قیمت 12,999 درہم ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے وہ 7 ممالک جہاں آئی فون 17 کی قیمت پوری دنیا سے کم ہے
ایروس گروپ کے سی ای او رجت آستھانا کے مطابق، ’یہ اصل آئی فون ہے جسے مقامی کمپنی نے 24 قیراط سونے سے پلیٹ کیا ہے۔ یونٹس TRA سے منظور شدہ ہیں اور اصل اسپیسفکیشنز رکھتے ہیں۔‘
قیمتوں میں ’ایک‘ کا جادوایروس گروپ نے اس سال اپنی پوری 11.
ڈیلز Dh11، Dh111، Dh1,111، اور Dh11,111 کی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔
یہ رعایتیں مختلف کیٹیگریز میں دی جا رہی ہیں جن میں گیجٹس، فٹنس ڈیوائسز اور لائف اسٹائل پراڈکٹس شامل ہیں۔
دوسری جانب، جیمبو الیکٹرانکس (Jumbo Electronics) نے بھی 11.11 کے لیے 50 فیصد تک رعایت کے ساتھ متعدد بینکوں — ENBD، ADIB، SIB — کے ساتھ 10 فیصد انسٹنٹ ڈسکاؤنٹ کی پیشکش کی ہے۔
ان کی ویب سائٹ Jumbo.ae پر نمایاں ڈیلز میں شامل ہیں:
75 انچ اسمارٹ ٹی وی
مرر لیس کیمرے خصوصی پیکیجز کے ساتھ
ہوم اپلائنسز اور جدید اسمارٹ فونز
آن لائن خریداری میں تیزیایروس گروپ کو توقع ہے کہ سیل کی 10 فیصد خریداری آن لائن ہوگی، جبکہ جیمبو 50 فیصد اضافہ کی امید کر رہا ہے۔
’ہمیں توقع ہے کہ اس سال 11.11 کے دوران Jumbo.ae کی فروخت میں 50٪ اضافہ ہوگا، جو نومبر کی کل فروخت کا تقریباً 20 فیصد بن سکتا ہے۔‘
ایروس گروپ کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں ڈلیوری ان کی سب سے اہم خوبی ہے، خاص طور پر گھریلو مصنوعات میں۔
ابھی خریداری، بعد میں ادائیگیاس سال 11.11 سیل میں Buy Now, Pay Later (BNPL) اسکیمز جیسے Tamara اور Tabby صارفین کی توجہ کا مرکز ہیں۔
یہ سہولت خریداروں کو 3–4 قسطوں میں بغیر سود ادائیگی کا موقع دیتی ہے، جس سے اوسط خریداری کی مالیت بڑھ رہی ہے۔
ریٹیلرز کے مطابق، صارفین اب پہلے سے زیادہ سمجھدار ہو گئے ہیں۔
وہ سیل سے پہلے ہی پراڈکٹس ریسرچ کرتے ہیں، قیمتوں کا تقابل کرتے ہیں اور ویش لسٹس تیار کرتے ہیں تاکہ سیل کے دن خریداری میں وقت ضائع نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیے آئی فون 17 اب پاکستان میں بھی قسطوں میں ملنا شروع، قیمت کیا ہوگی؟
11.11 سیل اب صرف ایک خریداری ایونٹ نہیں بلکہ لگژری، ٹیکنالوجی اور اسمارٹ ڈیجیٹل شاپنگ کا امتزاج بن چکی ہے — اور دبئی میں گولڈ پلیٹڈ آئی فون نے اسے مزید یادگار بنا دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بزنس دبئی سونے سے مزین آئی فون
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سونے سے مزین آئی فون ایروس گروپ آئی فون
پڑھیں:
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیےیہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔
(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔
نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثریہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔
نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعملامریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔
برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔
جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔
دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملیدریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔
امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔
ادارت: مقبول ملک