پنجاب میں مدارس کی نمبرشماری مکمل، کتنے مدرسے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
پنجاب حکومت نے صوبے میں امن و امان کے قیام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تاریخی اقدامات کرتے ہوئے مساجد کے نظام کو عوامی امانت قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا 25 ہزار میں آئمہ کرام کا ضمیر خریدنا چاہتے ہو؟ فضل الرحمان کی پنجاب حکومت پر پھر تنقید
حکومت پنجاب کے ترجمان کے مطابق صوبے بھر میں مقامی معززین پر مشتمل مزید مؤثر مسجد مینجمنٹ کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر صوبے میں مساجد کی بحالی اور ان کے انتظامی نظام کو شفاف اور مؤثر بنانے کا روح پرور سفر شروع کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے خدمتِ دین کرنے والے آئمہ مساجد کے لیے وظائف کی فوری ادائیگی یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
آئمہ کرام کی رجسٹریشن کے لیے فارم کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور ہر تحصیل آفس میں خصوصی کاؤنٹرز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں فارم جمع کروانے کی مینوئل اور ڈیجیٹل دونوں سہولتیں فراہم ہوں گی۔
حکومت پنجاب کے مطابق آئمہ کرام کو وظائف کی ادائیگی کا عمل چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گا۔
پنجاب میں دینی اداروں کی پہلی بار مکمل ڈیجیٹل میپنگتاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ پنجاب میں دینی اداروں کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: مولانا فضل الرحمان ائمہ کرام کے لیے پنجاب حکومت کے وظیفہ میں رکاوٹ نہ بنیں، علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی
صوبے کے 20 ہزار 863 دینی مدارس اور 56 ہزار مساجد کی جیو ٹیکنگ اور نمبر شماری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ تمام ریکارڈ ایک شفاف ڈیجیٹل ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا گیا ہے۔
محکمہ اوقاف کی زیر نگرانی لاہور سمیت صوبے بھر کی مساجد میں یکجہتی، ہم آہنگی اور مذہبی بھائی چارے کے فروغ کے لیے نیا دور شروع ہو چکا ہے۔
بریفنگ کے مطابق اس وقت 284 مساجد میں محکمہ اوقاف کے آئمہ کرام اور 47 مساجد میں دیگر علما امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ حکومت نے ان کی دینی و ملی خدمات کے اعتراف میں وظائف میں اضافے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائیاںپنجاب حکومت نے امن و امان کے قیام کے لیے ریاستی رٹ کو مزید مؤثر بنانے کا عزم دہراتے ہوئے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
افغان شہریوں کو کرائے پر پراپرٹی دینے پر کارروائیترجمان کے مطابق افغان شہریوں کو کرایہ داری دینے والے 64 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ غیر قانونی افغان باشندوں کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھنے پر تین فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: جلسے اور ریلیاں ممنوع، لاؤڈ اسپیکر صرف اذان و خطبے کے لیے محدود، پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 روز کی توسیع
پنجاب بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی نشاندہی کے لیے 45 ہزار سے زائد مقامات پر چیکنگ کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب پنجاب آئمہ مساجد پنجاب مدارس پنجاب مدرسے پنجاب مساجد کے امام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب مساجد کے امام افغان شہریوں پنجاب حکومت کے مطابق کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔