کراچی میں مسافر کوچ بے قابو ہر کر موٹرسائیکل سوار پر الٹ گئی، 2 نوجوان بھائی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
مسافر کوچ الٹنے کے نتیجے میں جاں بحق 2 سگے بھائیوں کی شناخت 17 سالہ علی شاہ اور 15 سالہ دانیال کے نام سے کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے بلدیہ حب ریور روڈ شارجہ مارکیٹ کے قریب تیز رفتار مسافر کوچ ڈرائیور سے بے قابو ہو کر الٹ گئی، جس کی زد میں آکر موٹر سایئکل پر سوار 2 سگے بھائی جاں بحق، جبکہ والدہ زخمی ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق شارجہ مارکیٹ کے قریب تیز رفتار مسافر کوچ الٹنے کے حادثے میں کوچ میں سوار خاتون سمیت 11 مسافر بھی زخمی ہوئے، حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فلاحی ادارے کے رضا کار موقع پر پہنچ گئے اور متوفین کی لاشوں اور زخمیوں کو سول اسپتال منقتل کیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق مسافر کوچ الٹنے کے نتیجے میں جاں بحق 2 سگے بھائیوں کی شناخت 17 سالہ علی شاہ اور 15 سالہ دانیال کے نام سے کی گئی۔
حادثے میں جاں بحق سگے بھائیوں کی زخمی والدہ سائرہ نے بتایا کہ وہ بچوں کے ہمراہ موٹر سائیکل پر بلدیہ نیول کالونی جا رہی تھیں کہ کوچ الٹنے کے نتیجے میں موٹر سائیکل اس کی زد میں آگئی، جس کے باعث ان کا ہاتھ بھی ٹوٹ گیا، جبکہ دونوں بیٹے زندگی کی بازی ہار گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی متوفین بھائیوں کے والد جاوید بھی اسپتال پہنچ گئے، جہاں جوان بیٹوں کی موت پر کئی رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ ایس ایچ او سعید آباد پرویز سولنگی نے بتایا کہ فوری طور پر مسافر کوچ کے ڈرائیور کا معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ زخمی ہے یا موقع سے فرار ہوگیا ہے، اس حوالے سے پولیس معلومات حاصل کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسافر کوچ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔