موسم کی تبدیلی مختلف بیماریوں کی پیدا کررہی ہے ،ڈاکٹر نوید
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت) ٹنڈوجام کے معروف بچوں کے ڈاکٹر رورل ہیلتھ سینٹر ٹنڈوجام کے میڈیکل آفسرڈاکٹر نوید احمد میمن نے کہا ہے کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی بچوں میں گلے سانس، بخار ٹائیفائیڈ ملیریا کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے ڈینگی کے بعد یہ خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے اس جانب توجہ دی جائے۔ یہ بات انہوں نے سماجی رہنماوں اور والدین کو لیکچر دیتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہا کہ ضلع حیدرآباد میں عوام ابھی ڈینگی کی وجہ سے پریشانی سے دوچار ہے کہ اب سردی میں ایک دم مذید اضافہ ہو گیا۔ اس موقع پر سماجی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بچوں کے والدین کو سمجھنا چاہیے گلی گلی محلے جاکر کہ وہ اپنے بچوں پر احتیاط کریں۔ انہوں نے کہا کہ موسم کی تبدیلی رات میں ٹھنڈک پڑنے کی وجہ سے ٹنڈوجام اور اس کے گردونواح میں بچوں میں سینے گلے سانس، ٹائیفائیڈ بخار ملیریا کا مرض تیزی سے پھیلنے لگا اس کی وجہ ٹھنڈے مشروبات کا استعمال رات میں باہربغیر گرم پہنائے گھومنے لے جانا خود بھی کو گرم کپڑے نہ پہنانا، مچھروں سے محفوظ نہ رکھنا اور عطائی ڈاکٹروں سے علاج کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو سردی بڑھنے سے گرم کپڑوں کا استعمال کریںٹھنڈے مشروبات سے پرہیز کریں، گھروں میں صفائی کا خیال رکھیں، مچھروں سے محفوظ رکھنے کے لیے مچھر دانی یا دوا لگائیں، بچوں کو مٹی دھول سے دور رکھیں، بچوں کو گرم سوپ پلائیں اور اسکول میں سوئٹر پہنا کر بھیجیں تاکہ ملیریا بخار یا ٹائفائیڈ سے خود بھی اور اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکیں اگر کوئی مسلہ ہو عطائی ڈاکٹر کے بجائے مستند ڈاکٹر سے علاج کرائیں تو ان بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے بچوں کو نے کہا
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔