الخدمت 2400 باہمت یتیم بچوں کی کفالت کررہی ہے‘نویدعلی بیگ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(پ ر)چیف ایگز یکٹو الخدمت کراچی نوید علی بیگ نے کہا ہے کہ الخدمت 2400یتیم بچوں کی ان کے گھروں پر کفالت کر رہی ہے،مخیر حضرات کے تعاون سے یہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے۔باہمت یتیم بچوں کو تعلیم ودیگر ضروریات کی مدمیں ماہانہ رقم دی جاتی ہے تاکہ یہ بچے تعلیم ودیگر ضروریات پوری کرسکیں،تیم بچے اس ملک کا روشن مستقبل ہیں،انہیں مایوسی اور محرومی سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔الخدمت اسی مقصد کے تحت ان بچوں کا ہاتھ تھامے ہو ئے ہے۔یہ بات انہوں نے الخدمت آرفن کیئر پروگرام کے تحت الخدمت ناظم آبا د ہسپتال میں قائدین اورسینٹرل سے رجسٹرڈ باہمت بچوں کی ہیلتھ اسکریننگ کے موقع پر کہی۔انہوں نے اسکریننگ کیلئے آئے بچوں سے ملاقات کی اور ان کے سروں پر دست شفقت رکھا،بعد ازاں ایگزیکٹو ڈائریکٹرراشد قریشی نے بھی ناظم آباد میں کیمپ کا دورہ کیا اور اسکریننگ کے عمل کا معائنہ کیا۔ نوید علی بیگ نے کہا کہ الخدمت جہاں ان بچوں کی کفالت کر رہی ہے وہاں ان کی صحت کا بھی خیال رکھتی ہے،ان بچوں کو مطالعاتی دورے بھی کروائے جاتے ہیں تاکہ ان کو تفریح کے موقع بھی میسر آسکیں،انہوں نے کہا یتیموں کی کفالت بڑی نیکی ہے اور یہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے،انہوں نے کہا کہ اہل خیر الخدمت کے اس منصوبے میں اس کا ساتھ دیں۔راشد قریشی نے کہا کہ الخدمت ملک بھر میں یتیموں کی کفالت کر رہی ہے،سالانہ ہیلتھ اسکریننگ میں کراچی کے 2400باہمت بچوں کی ہیلتھ اسکریننگ کی جارہی ہے،اس کیلئے مختلف اسکریننگ سینٹرز میں ماہر امراض اطفال،دانتوں،ناک،کان،گلے اور آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر اور طبی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے،اسکریننگ کے عمل سے ہمیں بچوں کی صحت سے متعلق آگاہی حاصل ہوتی ہے اور حسب ضرورت ان کا علاج بھی کروایا جاتا ہے،ادھر لیاری میں بھی الخدمت آرفن کیئر پروگرام کے تحت رجسٹرڈ بچوں کی ہیلتھ اسکریننگ کی گئی،مجموعی طور پر 587بچوں کی ہیلتھ اسکریننگ کی گئی،ان بچوں کی ڈاکٹرز کی تجویز کردہ ادویات بھی فراہم کی گئیں اور انہیں مفید مشورے بھی دییگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بچوں کی ہیلتھ اسکریننگ اسکریننگ کی انہوں نے کی کفالت ان بچوں نے کہا
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔