وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی کے ویژن کے مطابق تعلیم ہی ترقی کی ضمانت ہے، نسرین جلیل
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
سینئر رہنما ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ سندھ کے بچوں میں 70 فیصد کا اسکول نہ جانا ایک بڑا مسئلہ اور لمحہ فکریہ ہے، جبکہ کراچی جیسے شہر میں غیر رسمی تعلیم کی یہ کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ویژن کے مطابق، رونقِ اسلام اسکول میں فیڈرل ایجوکیشن بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز (BECS) کی انتظامیہ کے زیرِ اہتمام اساتذہ کی ایک اہم تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی۔ تقریب میں ایم کیو ایم پاکستان کی سینئر مرکزی رہنما و سینیٹر نسرین جلیل نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے تعلیمی اقدامات کو سراہا۔ ان کے ہمراہ سابق رکن قومی اسمبلی ریحان ہاشمی سمیت دیگر اراکین اسمبلی اور مرکزی رہنما بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ مائیکرو اسکولز کو گھروں میں قائم کرکے بچوں کو تعلیم دینے کا یہ اقدام قابل تحسین ہے اور اساتذہ کی تربیت کا یہ پروگرام وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قوم اور نئی نسل سے ویژن اور کمٹمنٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم اور شعور ہی فلاح کا واحد راستہ ہیں اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا ویژن ہے کہ تعلیم ہی ترقی اور خوشحالی کی اصل ضمانت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی اسی عمل سے آتی ہے۔
نسرین جلیل کا کہنا تھا کہ سندھ کے بچوں میں 70 فیصد کا اسکول نہ جانا ایک بڑا مسئلہ اور لمحہ فکریہ ہے، جبکہ کراچی جیسے شہر میں غیر رسمی تعلیم کی یہ کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اس تربیتی پروگرام سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کریں تاکہ بچوں کی تربیت کا عمل مزید بہتر ہو سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایم کیو ایم پاکستان تعلیم کے فروغ اور عوامی خدمت کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نسرین جلیل انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔