گوگل کروم بک فیکٹری لگانے کی پیشکش، مریم نواز معاونت کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب میں گوگل کی جانب سے گوگل کروم بک فیکٹری لگانے کی پیشکش پر وزیر اعلیٰ مریم نواز نے بھرپور معاونت کی یقین دہانی کروادی۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز سے بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی کےاعلیٰ سطح کے وفد نے ملاقات کی، کمپنی نے پنجاب میں لیپ ٹاپ کی تیاری کی پیشکش کردی۔
ملاقات میں بتایا گیا کہ گوگل کروم بک میں 3 بڑے اور اہم سافٹ ویئر بھی انسٹال کیے جائیں گے، لیپ ٹاپ میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ٹول کٹ اور اے آئی جیمنائی انسٹال کرنے کا بھی بتایا۔
وزیر اعلیٰ پنجا ب مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس حب بنانا ہمارا عزم ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بنیادی تعلیم کا حصہ بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
گوگل فار ایجوکیشن کے وفد نے تعلیم اور خاص طور پر بچیوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جدید تعلیم دینے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کو متاثر کن قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔