غربت کم کرنے کےلیے پاکستان کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانا ہوگا، وزیر سرمایہ کاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانا ہو گا، ویلیو ایڈڈ برآمدات سے غربت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام 28 ویں پائیدار ترقی کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کیا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت نے گزشتہ بیس ماہ کے دوران معیشت سمیت مختلف شعبوں میں کئی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو پیداواری صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے اور حکومت براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے فروغ کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت کوشاں ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں گزشتہ مالی سال کے دوران 2.
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین کی ترقی سے سیکھنا چاہئیے۔ قیصر احمد شیخ نے کہا کہ چین کی ترقی میں جامع منصوبہ بندی نے بنیادی اور بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ تنازعہ کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ نے کہا کہ ملک میں باہمی اعتماد معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے،منصوبہ بندی کمیشن پاکستان کی پائیداری ترقی کیلئے منصوبہ بندی تیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت کی شرح کو کم کرنے کیلئے چین کے اقدامات اور تجربات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی اور ویلیو ایڈڈ برآمدات کے فروغ سے روزگار کی فراہمی کے مواقع میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر سرمایہ کاری کہ پاکستان پاکستان کو وفاقی وزیر نے کہا کہ سکتا ہے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔