غیر ملکی کمپنیوں کے منافع کی ترسیل پر تین سال سے عائد پابندیوں میں نرمی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری سے پاکستان میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے غیر ملکی کمپنیوں کے منافع کی ترسیل پر تین سال سے عائد پابندیوں میں نرمی کر دی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں منافع کی ترسیلات 752 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مزید بتایا کہ غیر ملکی کمپنیوں کی منافع واپسی میں 86 فیصد اضافہ اور توانائی اور مالیاتی شعبوں میں بالترتیب 186 اور 183.
حکومت اور ایس آئی ایف سی کی مؤثر پالیسیوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کاروباری آسانیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مستحکم کر رہی ہیں۔
ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پاکستان پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بڑھتا اعتماد معاشی استحکام کی علامت بن رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غیر ملکی
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔