ٹیلی کام کمپنیوں کیلیے پاکستان میں ڈیٹا ہوسٹنگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ پی ٹی اے کا ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے پاکستان میں ڈیٹا ہوسٹنگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کرلیا، پی ٹی اے نے “کریٹیکل ٹیلی کام ڈیٹا اینڈ انفراسٹرکچر سیکورٹی ریگولیشنز “2025 کو حتمی شکل دے دی۔
خبر رساں ادارے کے مطابق پی ٹی اے نے نئی سیکورٹی ریگولیشنز پر اسٹیک ہولڈرز سے فیڈبیک طلب کر لیا تمام لائسنس یافتہ کمپنیوں کے لیے ڈیزاسٹر ریکوری اور بزنس کنٹی نیوٹی پلان لازمی ہوں گے، ریگولیشنز ٹیلی کام سیکٹر سائبر سیکورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں کو “زیرو ٹرسٹ سیکورٹی ماڈل” اپنانے کی ہدایت کر دی ہر ٹیلی کام ادارہ چیف انفارمیشن سیکورٹی آفیسر (CISO) تعینات کرے گا، ٹیلی کام کمپنیوں کو سالانہ رسک اسیسمنٹ اور سائبر آڈٹ کروانے کی ہدایت کی گئی ہے ،کسی بھی سنگین سائبر واقعہ کی رپورٹ 24 گھنٹوں میں پی ٹی اے کو دینا لازمی ہوگی۔
پی ٹی اے کو غیر ملکی سافٹ ویئر یا آلات کے استعمال پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل ہوگا، ریگولیشنز کے تحت انفارمیشن سیکورٹی اسٹیئرنگ کمیٹیاں قائم کرنا لازمی ہوگا، کمپنیوں کو سپلائی چین اور وینڈرز کی سیکورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نئی ریگولیشنز کے ذریعے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے اقدامات مزید سخت ہوں گے، پی ٹی اے نے “سی ٹی ڈی آئی ایس آر “2025 پر عوامی رائے دینے کی آخری تاریخ 7 نومبر مقرر کردی، سی ٹی ڈی آئی ایس آر 2025، پرانی 2020ءفریم ورک کی جگہ لے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹیلی کام کمپنیوں پی ٹی اے نے
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔