کراچی میں ای چالان کے نفاذ سے قبل آگاہی مہم لازمی قرار، شہریوں کا اصلاحات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ای چالان (ٹریکس) نظام کے نفاذ کے بعد ڈرائیورز کی تربیت اور آگاہی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
سماجی ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ سڑکوں پر چلنے والے بیشتر ڈرائیورز اور موٹر سائیکل سوار ٹریفک اشاروں اور بنیادی قوانین کے بارے میں آگاہی نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ اپنی مرضی سے سڑکوں پر گاڑیاں چلاتے ہیں، جس کی وجہ سے ٹریفک مینجمنٹ قائم نہیں ہو پا رہا ہے۔
ایک ٹریفک انسٹرکٹر نے بتایا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کے نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ لائسنس کے اجرا سے قبل ایک ماہ کی باقاعدہ ٹریفک ٹریننگ کو لازمی قرار دیا جائے اور یہ ٹریننگ مکمل کرکے امتحان میں کامیابی کے بعد ہی لائسنس جاری کیا جائے۔
انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ہر ٹاؤن میں نجی اداروں کے تعاون سے کم از کم 5 انسٹیٹیوٹ کھولے جائیں تاکہ شہریوں کی تربیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف بھاری جرمانے عائد کرنے کے بجائے پہلے شہریوں میں ٹریفک قوانین کی آگاہی اور شعور پیدا کرنا چاہیے تاکہ طویل مدتی بہتری لائی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔