پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیوں کیلیے ڈیٹا ہوسٹنگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نےٹیلی کام کمپنیوں کے لیے پاکستان میں ڈیٹا ہوسٹنگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلیے پی ٹی اے نے نئی سکیورٹی ریگولیشنز پر اسٹیک ہولڈرز سے آرا بھی طلب کرلی ہیں۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق لائسنس یافتہ کمپنیوں کے لیے ڈیزاسٹرریکوری اور بزنس کنیکٹیویٹی پلان لازمی قرار دے دیاہے، جس کے بعد کسی سنگین سائبر واقعے کی رپورٹ 24 گھنٹوں میں پی ٹی اے کو دینا لازمی ہوگا۔
حکام کے مطابق ریگولیشنز ٹیلی کام سیکٹر کی سائبر سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ہر ٹیلی کام ادارہ چیف انفارمیشن سکیورٹی آفیسر تعینات کرے گا۔ کسی سنگین سائبر واقعے کی رپورٹ 24 گھنٹوں میں پی ٹی اے کو دینا لازمی ہوگی۔
پی ٹی اے غیر ملکی سافٹ ویئر یا آلات کے استعمال پر پابندی بھی لگا سکتی ہے۔ نئی ریگولیشنز کے ذریعے صارفین کے ڈیٹا تحفظ کے مزید سخت اقدامات ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔