فرض شناس پولیس افسران تا حال تعیناتی سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
کراچی میں جن تھانیداروں نے کرائم کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہیں یکسر نظر انداز کر دیا گیا
اسٹریٹ کرائم پرکارکردگی دکھانے پر انعامات اور تعریفی اسناد وصول کرنیوالے افسران تعیناتیوں کے منتظر
(کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) کراچی پولیس میں بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران میں ایس ایچ او محمد ریاض، عامر اعظم اشرف جوگی، عامر اکرام، شاہد بلوچ، فیصل جعفری، ندیم صدیقی و دیگر شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں جرائم پر قابو پانے والے افسران جنہیں کراچی کے اعداد و ادوار حالات و واقعات کا بخوبی علم ہے متعدد نظر انداز کیے گئے افسران میں وہ ایس ایچ اوز بھی شامل ہیں جنہوں نے شہر قائد میں اسٹریٹ کرائم اور ارگنائز کرائم کے خاتمے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا اپنے متعدد کاروائیوں پر بالا افسران سے انعامات اور تعریفی اسناد وصول کیے نظر انداز کیے گئے تھانیداروں میں محمد ریاض عامر اعظم فیصل جعفری عامر اکرام اشرف جوگی و دیگر شامل کراچی شہر کے حالات کے پیش نظر ان تمام افسران کو موقع دینا چاہیے شہر قائد کا دیرینہ مسئلہ اس ایٹ کرائم ہے جو ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے کراچی پولیس گزشتہ 15 برسوں سے پکے کے ڈاکوؤں سے لڑ رہی ہے لیکن افسوسناک امر ہے وارداتوں کا گراف مزید بڑھ رہا ہے سندھ پولیس کے اعلی افسران کو اسٹریٹ کرائم کے خلاف جامع پالیسی بنانے کی اشد ضرورت ہے شہر کے باسی اسٹریٹ کرائم کے باعث عدم تحفظ کا شکار نظر اتے ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اسٹریٹ کرائم
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔