اندرون سندھ، سرکاری اسپتالوں میں اربوں روپے فراہم کرنے کے باوجود بچوں کے علاج کی سہولیات ناپید
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
کراچی:
اندرون سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں اربوں روپے فراہم کرنے کے باوجود بچوں کے علاج معالجے کی سہولتیں ناپید ہیں جہاں غریب شہری اپنے بچوں کے علاج کے لیے اپنی مویشیاں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
ایکسپریس نیوز کو كنرى ضلع عمركوت کے رہائشی امتياز گشکورى نے بتایا کہ گزشتہ دنوں میرے 10 ماه كے بیٹے غلام محمد کی حالت شدید غذائی کمی اور خسرہ وائرس کی وجہ سے تشویش ناک ہوگئی تھی، علاج کرانے کے لیے پیسے نہیں تھے لیکن اپنے بچے کی زندگی بچانے کے لیے بکری فروخت کی اور مٹھی اور كنرى کے ڈاکٹروں سے علاج كروايا لیکن میرے بیٹے کی حالت مزید خراب ہوگئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد اپنے بیٹے کو عمرکوٹ سے میرپور خاص شہر کے ایک نجی اسپتال پہنچایا، اسی دوران وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے اپنے بیٹے کے علاج کے لیے درخواست بھیجی جس پر وزیراعلی سندھ نے میرپور خاص کے کمشنر فیصل احمد عقيلى اور صوبائی محکمہ صحت کے تعینات سول سرجن میرپور خاص ڈاکٹر پیر غلام نبی شاہ جيلانى کو كنرى ضلع عمركوٹ میں میرے بچے غلام محمد کے علاج کے لیے فوری ہدايات ديں ۔
انہوں نے بتایا کہ کمشنر میرپور خاص فيصل احمد عقيلى كى ہدايت پر سول سرجن میرپور خاص ڈاکٹر پیر غلام نبی جيلانى نے نجی اسپتال پہنچ کر مجھ سے اور اسپتال کے ڈاکٹروں سے رابطہ کیا، جس پر ڈاکٹر پیر غلام نبی شاہ نے متعلقہ بچے کے ڈاکٹر عبدالمجيد ميمن سے علاج معالجے کے حوالے سے بریفننگ بھی لی اور اپنى نگرانى مين علاج كروايا۔
بچے کے والد نے بتایا کہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ،کمشنر میرپور خاص اور سول سرجن ڈاکٹر پیر غلام نبی شاہ جيلانى کی بروقت کارروائی اور نگرانی کی وجہ سے میرا بیٹا اب ٹھیک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کنری عمرکوٹ اور دیگر دیہی آبادیوں میں رہنے والے بچوں کے علاج کے لیے ماہرین اطفال کو فوری تعینات کیا جائے کیونکہ یہاں کے بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں۔
اس حوالے سے سول سرجن ڈاکٹر پیرغلام نبی نے بتایا کہ بچے کو شدید نوعیت کا خسرہ اور اس کی پیچیدگیاں ہوگئی تھیں کیونکہ غربت كى وجه سے بچہ غذائی قلت کا بھی شکار تها اور ديگر وجوہات سے خسرہ کی پیچیدگیاں سامنے آئيں اور سول سرجن كی ہدايت پر تعلقه اسپتال کنرى پر موجود غذائی مركز او ٹی پی پر بچے کا خوراک کى قلت كا علاج شروع كيا۔
ڈاکٹر غلام نبی کا کہنا تھا کہ سرد موسم شروع ہوگیا اس میں غذائی کمی کا شکار بچے خسرہ وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں لہٰذا والدین اپنے بچوں کو خسرہ سمیت دیگر امراض سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین لازمی لگوائیں۔
انہوں نے کہا کہ سرد موسم میں بچوں میں نمونیہ اور خسرہ جیسے طبی مسائل جنم لیتے ہیں، مائیں اپنے بچوں کی خوراک کا خیال رکھیں اور حفاظتى ويكسین نه كرواكر خسرہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں لہٰذا والدین خصوصاً مائیں اپنے چھوٹے بچوں کی خوراک کا خیال رکھیں کیونکہ خوراک کی کمی سے چھوٹے بچوں میں مختلف طبی مسائل جنم لیتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر پیر غلام نبی کے علاج کے لیے بچوں کے علاج نے بتایا کہ میرپور خاص سول سرجن
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔