تعلیم ریاست کی ذمے داری
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
تعلیم ریاست کی ذمے داری کے فلسفے پر قائم ہونے والی پیپلز پارٹی نے تعلیم کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے کی پالیسی پر خوبصورتی سے عمل کرنا شروع کردیا۔ سندھ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت صوبہ بھر میں 500 اسکول قائم کیے جائیں گے۔
ایک رپورٹ کے مطابق سندھ کی حکومت نے صوبے میں معیاری تعلیم تک رسائی کے فروغ کے لیے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کے تحت ایک سہ فریقی معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ایس ای ایف)، دی سٹیزنز فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) اور حکومت سندھ کے ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ کی شراکت سے نئے اسکول تعمیر ہوںگے۔ یہ شراکت داری 2019سے 2029 تک کے عریہ پر محیط ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس معاہدے کے تحت بعض غیر فعال ، ترک شدہ اور بند اسکولوں کی بحالی عمل میں آئے گی اور یہ غیر سرکاری اداروں کو اسکولوں کی انتظامی ذمے داری سونپی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت حکومت سندھ کی جانب سے ان اداروں کو سبسڈی کی فراہمی کا بھی ایک نیا نظام وضع کیا جائے گا۔
اس نظام کے تحت ٹی سی ایف کو فی طالب علم 200 روپے اساتذہ کی تربیت اور نصابی کتب کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔ اس معاہدے کے پہلے مرحلہ میں ٹی ایس ایف نے اب تک بدین، دادو، حیدرآباد، جیکب آباد، کورنگی، ملیر، کشمور، مٹیاری، میرپور خاص، سانگھڑ، شہید بے نظیر آباد، شکارپور اور سجاول سمیت مختلف اضلاع میں 98 اسکول قائم کیے ہیں۔ جون 2029 تک مجموعی طور پر 500 اسکول تعمیر ہونگے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اس تجویز پر بھی غور کیا گیا کہ فی طالب علم ماہانہ سبسڈی 2 ہزار 500 روپے کردی جائے گی۔ تعلیم حکومت سندھ کا سب سے بڑا شعبہ ہے۔ پورے سندھ میں سرکاری پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کی کل تعداد 48 ہزار 932 کے قریب ہے جن میں سے 43 ہزار کے قریب اسکول فعال ہیں۔ اسی طرح اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد تقریباً 147,945 ہے جن میں سے سرکاری اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کی تعداد 141,718 کے قریب ہے۔
ان میں سے بہت سے اساتذہ وہ ہیں جو غیر حاضر اساتذہ کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔ حکومت سندھ نے اس سال کے مالیاتی بجٹ میں تعلیم کے لیے 3,45 Trillion روپے مختص کیے ہیں۔ اس رقم میں سے بیشتر حصہ اسکولوں کی تعمیر اور ترقی، ان میں سہولتوں کی فراہمی، اساتذہ کی تنخواہوں، ریٹائرڈ اساتذہ کی پنشن اور دیگر تعلیمی لوازمات پر خرچ ہوتا ہے۔ حکومت سندھ کی اتنی خطیر رقم تعلیم پر خرچ کرنے کے باوجود سندھ بھر میں 7.
گزشتہ سال میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے نتائج سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرکاری اسکولوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے مقابلے میں پرائیوٹ اسکولوں کے طلبہ نے امتیازی پوزیشن حاصل کیں۔ میڈیکل اور پری انجنیئرنگ کے داخلہ ٹیسٹ میں حیدرآباد اور دیگر بورڈ سے پاس ہونے والے طلبہ مطلوبہ نمبر حاصل نہ کرسکے۔ سندھ حکومت نے نجی اداروں کو پابند کیا ہے کہ 10فیصد نشستیں غریب طلبہ کے لیے میرٹ کی بنیاد پر مختص کی جائیں گی مگر کوئی تعلیمی ادارہ اس پالیسی پر عملدرآمد کرنے پر تیار نہیں ہے۔
جب 2008میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت ورلڈ بینک اسکولوں کی تعلیم کے لیے خطیر رقم فراہم کرتا تھا۔ ورلڈ بینک کے ماہرین نے اساتذہ کے تقرر کے معیار کو غیر اطمینان بخش قرار دیا اور اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ اساتذہ کے تقرر کے لیے انٹری ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے مگر کئی ہزار افراد کو بغیر انٹری ٹیسٹ پاس کیے بھرتی کر لیا گیا، یوں اس وقت کے وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کو سبکدوش کیا گیا اور ان افراد کو رخصت کیا گیا۔ یہ ہزاروں افراد کئی برسوں تک کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کرتے رہے۔
کچھ افراد ٹکنیکل بنیادوں پر قانونی کمزوریوں کی بنیاد پر عدالتوں سے بحال ہوئے۔ اساتذہ کی بھرتی کے لیے سکھر آئی بی اے کے انٹری ٹیسٹ سے پاس ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ سکھر آئی بی اے ٹیسٹ میں بھی کئی خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ بہرحال پھر حکومت سندھ نے اساتذہ کے تقرر کے لیے لائسنس سسٹم کا اجراء کیا۔ اب کسی بھی فرد کو ٹیچر بننے کے لیے یہ لائسنس حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ اس لائسنس کی مدت 5 سال قرار دی گئی، یوں سندھ میں اس بات کے قوی امکانات پیدا ہوگئے کہ اب اساتذہ کا تقرر میرٹ کی بنیاد پر ہوگا مگر گریڈ 17 اور اس سے بالا کی آسامیوں کے لیے سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنا لازمی قرار دیا گیا، البتہ سندھ پبلک سروس کمیشن کی ساکھ خراب ہے ۔ حکومت نے میرٹ پر اساتذہ کے تقرر، نئے اسکولوں کی تعمیر اور اسکولوں میں جدید ترین سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے ایک نیا طریقہ سیکھا کہ غیر سرکاری تنظیموں کے سپرد اسکولوں کا نظام کردیا جائے مگر اس کے ساتھ حکومت ان تنظیموں کو سبسڈی دینے پر بھی تیار ہے ، یوں اب اربوں روپے ان تنظیموں کو ہر سال سبسڈی کی مد میں دیے جائیں گے۔
یہ تنظیمیں اپنے معیارکے مطابق اساتذہ کا تقرر کریں گی، یوں حکومت کو نئے اساتذہ کو میرٹ پر ملازمت دینے، ان اساتذہ کو بہتر تنخواہیں دینے اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ادا کرنے کے جھنجھٹ سے نجات حاصل ہوجائے گی۔ نیو لبرل ازم کے نظریے کے تحت اب سندھ حکومت بھی تعلیم کی ذمے داری سے بچ جائے گی۔
یہ بھی خبریں ہیں کہ صوبے کے سب سے بڑے سرکاری کو بھی غیر سرکاری تنظیموں کے سپرد کیا جارہا ہے۔ صوبائی وزراء جب پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ایس آئی یو ٹی کا حوالہ دیتے ہیں۔ ایس آئی یو ٹی کے سربراہ عظیم ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے نجی شعبے سے فنڈز تو لیے مگر سارا انتظام سرکاری شعبے میں ہے۔ اس تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ جب حکومت تعلیم اور صحت کی ذمے داریاں بھی پوری نہیں کرے گی، تو اتنی بڑی کابینہ اور اتنی بڑی بیوروکریسی کا کیا جواز ہے؟
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد فری مارکیٹ آنے سے تعلیم بھی ایک جنس کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی یہ پالیسی ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبے نجی شعبے کے سپرد ہونے چاہئیں۔ سندھ کی حکومت بالواسطہ طور پر ان عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کو عملی شکل دینے کی کوشش کررہی ہے۔ بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ ان غیر سرکاری اداروں کے تحت قائم کرنے والے تعلیمی اداروں کا معیار بلند ہوتا ہے، یوں عام طالب علم کو معیار تعلیم ملے گی مگر یہ مفروضہ ایک محدود سوچ کی پیداوار ہے۔ یہ غیر سرکاری ادارے حکومت کی سبسڈی سے ہی تعلیمی اداروں کا نظام چلائیں گے۔
ان اداروں میں فرائض انجام دینے والے اچھی تنخواہ، ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن نہ ہونے اور کسی بھی وقت ملازمت ختم ہونے کے خطرے کی بناء پر ذہنی دباؤ کا شکار رہیں گے جس کے اثرات ان کے خاندانوں پر ہی نہیں بلکہ طالب علموں پر بھی پڑیں گے۔
یوں اسکول نہ جانے والے کروڑوں بچوں کے اسکولوں میں داخلہ کا معاملہ الجھا رہے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ تعلیم اور صحت کی ذمے داری صرف ریاست ہی پورا کرسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اسی اصول کی بنیاد پر تعلیمی اداروں کو قومیانے کی پالیسی اختیار کی تھی اور یہی پالیسی تھی کہ جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی عوام میں مقبول ہوئی تھی ، اصولی طور پر تو پیپلز پارٹی کو اپنی بنیادی تعلیمی پالیسی میں جو خامیاں ہیں انھیں دور کرنا چاہیے تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی اساسی پالیسی دستاویز سے انحراف کرکے کچھ حاصل نہ کرسکے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اساتذہ کے تقرر لازمی قرار دیا تعلیمی اداروں اسکولوں میں پیپلز پارٹی کی ذمے داری کی بنیاد پر غیر سرکاری اسکولوں کی حکومت سندھ اساتذہ کی اداروں کو کی حکومت سندھ کی جائے گی کے تحت کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.