ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت سندھ دسمبر میں جدید ای وی ٹیکسی سروس کے آغاز کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، کراچی سمیت سندھ کے شہریوں کو سستی، محفوظ اور ماحول دوست سفری سہولت حاصل ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ حکومت کی جانب سے شہری سکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک اور اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے پیپلز بس سروس  اور ای وی ٹیکسی سروس کے ان ڈور اور آؤٹ ڈور کیمروں کو سیف سٹی نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے بتایا کہ پیپلز بس سروس اور ای وی ٹیکسی سروس میں نصب انٹیلی جنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم (ITS) کو سیف سٹی پروجیکٹ سے جوڑا جائے گا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ فیصلے کا مقصد عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو محفوظ بنانا، شہری علاقوں میں سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمروں کے انضمام کے بعد کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں میں ٹریفک مینجمنٹ، سکیورٹی مانیٹرنگ اور عوامی تحفظ کے اقدامات میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ دسمبر میں جدید ای وی ٹیکسی سروس کے آغاز کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، کراچی سمیت سندھ کے شہریوں کو سستی، محفوظ اور ماحول دوست سفری سہولت حاصل ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ٹیکسی سروس نے کہا کہ

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ