سندھ میں پیپلز بس سروس اور ای وی ٹیکسی کو سیف سٹی نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
کراچی:
سندھ حکومت کی جانب سے شہری سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اور اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے پیپلز بس سروس اور ای وی ٹیکسی سروس کے ان ڈور اور آؤٹ ڈور کیمروں کو سیف سٹی نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے بتایا کہ پیپلز بس سروس اور ای وی ٹیکسی سروس میں نصب انٹیلی جنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم (ITS) کو سیف سٹی پروجیکٹ سے جوڑا جائے گا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ فیصلے کا مقصد عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو محفوظ بنانا ، شہری علاقوں میں سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمروں کے انضمام کے بعد کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں میں ٹریفک مینجمنٹ، سکیورٹی مانیٹرنگ اور عوامی تحفظ کے اقدامات میں نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ دسمبر میں جدید ای وی ٹیکسی سروس کے آغاز کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ کراچی سمیت سندھ کے شہریوں کو سستی، محفوظ اور ماحول دوست سفری سہولت حاصل ہوگی۔
دریں اثنا کراچی میں سرمایہ کاروں کے ایک وفد کی سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات کی ہے، جس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی منیجنگ ڈائریکٹر کنول نظام بھٹو سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں نجی سرمایہ کاروں نے ای وی ٹیکسی منصوبے کے ڈھانچے، چارجنگ اسٹیشنز کے قیام اور آپریٹنگ ماڈلز سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہر میں جدید سفری نظام کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت سندھ چاہتی ہے کہ دسمبر تک ای وی ٹیکسی سروس شروع کر دی جائے تاکہ شہریوں کو روایتی ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں ایک بہتر اور جدید متبادل فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ای وی ٹیکسی سروس سے شہریوں کو کم کرایوں میں آرام دہ سفر میسر آئے گا ۔ ای وی ٹیکسی سروس سرمایہ کاروں کے لیے یہ منصوبہ ایک پرکشش موقع ثابت ہوگا۔ ابتدائی مرحلے میں یہ سروس کراچی میں شروع کی جائے گی، بعد ازاں دیگر بڑے شہروں تک اس کا دائرہ بڑھایا جائے گا۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومت خواتین کے لیے پنک ای وی ٹیکسی سروس بھی متعارف کروا رہی ہے، جس سے خواتین مسافروں کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔ سروس کی کارکردگی، شفافیت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ای وی ٹیکسی سروس میں انٹیلی جنٹ (ITS) سمیت جدید ٹیکنالوجی اور مانیٹرنگ سسٹم شامل ہوں گے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو اہم سمجھتی ہے۔ ای وی ٹیکسی سروس کا منصوبہ نہ صرف عوامی سہولت بلکہ صوبے کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیکسی سروس شرجیل میمن نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔