بابر اعظم کا نیا سنگ میل ، ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلےباز بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ایک اور بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا، وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر بن گئے ہیں۔
بابر نے یہ کارنامہ لاہور میں جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی کے دوران سرانجام دیا، جب انہوں نے اپنی اننگز کا نوواں رن مکمل کیا تو وہ بھارت کے سابق کپتان روہت شرما کا عالمی ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ہوگئے۔
روہت شرما نے اپنے کیریئر میں 159 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 4231 رنز بنائے تھے، جب کہ بابر اعظم کو یہ ریکارڈ توڑنے کے لیے صرف 9 رنز درکار تھے — جو انہوں نے اعتماد بھرے انداز میں حاصل کر لیے۔
یہ اعزاز بابر کے شاندار اور مستقل مزاج بیٹنگ کی ایک اور بڑی پہچان ہے۔ وہ پاکستان کے لیے کئی سالوں سے مختصر فارمیٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور دنیا کے چند سب سے زیادہ قابلِ اعتماد بلے بازوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ بابر اعظم کو گزشتہ سال دسمبر میں جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے بعد ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا تھا، تاہم ایشیا کپ 2025 میں ٹیم کی ناکامی کے بعد انہیں دوبارہ قیادت سونپی گئی — اور واپسی پر ہی انہوں نے ایک بڑا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر کے شاندار کم بیک کیا۔
بابر کا یہ کارنامہ نہ صرف پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ ان کے مداحوں کے لیے بھی ایک یادگار لمحہ ہے، جنہوں نے ہمیشہ ان کی کلاس، مستقل مزاجی اور خاموش قیادت پر یقین رکھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔