آزاد کشمیر میں نئی حکومت: ن لیگ کسی حکومت سازی کا حصہ نہیں بنے گی، راجہ فاروق حیدر
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے پارلیمانی لیڈر اور سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر نے واضح اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے کسی عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔
راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اس فیصلے پر مکمل طور پر قائم ہے اور اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کے معاملے پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے فیصلے پر انہیں اعتماد میں لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی آزاد کشمیر امور کمیٹی کو پیپلز پارٹی سے مذاکرات کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔ کمیٹی میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور امیر مقام شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، مذاکرات سے قبل کمیٹی کی آزاد کشمیر کی مسلم لیگ ن قیادت سے مشاورت جاری ہے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر اتفاق کیا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) اپنی اپوزیشن پوزیشن پر قائم ہے، جبکہ پیپلز پارٹی حکومت سازی کے لیے دیگر جماعتوں اور آزاد اراکین سے رابطے بڑھا رہی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال میں اہم پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حکومت سازی مسلم لیگ
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔