صرف رجسٹرڈ وی پی اینز کا استعمال کریں!
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
ریاض احمدچودھری
آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ مفت وی پی این دراصل آپ کا ڈیٹا چرا رہے ہیں۔ زیادہ تر مفت وی پی این محفوظ نہیں ہوتے، وہ آپ کو ہی پروڈکٹ بنا کر بیچتے ہیں۔ بہت سے غیر رجسٹرڈ وی پی این ہیکرز، غیر ملکی اداروں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے کنٹرول میں ہوتے ہیں، آپ کے یوزرنیم، پاس ورڈ، بینک کی تفصیلات اور ذاتی معلومات لاگ کی جا رہی ہیں، یہ مفت سروس دراصل آپ کی پرائیویسی کی قیمت پر چلتی ہے۔غیر رجسٹرڈ وی پی این خاموش چور ہیں جو آپ کی شناخت چرا رہے ہیں، ہمیشہ منظور شدہ اور لائسنس یافتہ وی پی این استعمال کریں۔
سرکاری حکام نے غیر رجسٹرڈ وی پی این کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ وہ ہرگز غیر رجسٹرڈ وی پی این استعمال نہ کریں۔ دہشت گرد، غیر ملکی ایجنٹ، جرائم پیشہ افراد اور شدت پسند اپنے وجود کو چھپانے کے لیے غیر قانونی وی پی این استعمال کر رہے ہیں۔ ان غیر رجسٹرڈ وی پی این کے ذریعے حملوں کی منصوبہ بندی، افواہیں، پروپیگنڈا اور غیر قانونی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔ ایسی سرگرمیوں سے پاکستان کا ہر شہری غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ اپنے ملک اور اپنی حفاظت کے لیے غیر رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال ہرگز نہ کریں، صرف پی ٹی اے سے منظور شدہ اور رجسٹرڈ وی پی این استعمال کریں۔
غیر قانونی وی پی این پورے ملک کے لیے مالی نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ وی پی این کے ذریعے قانونی گیٹ ویز بائی پاس ہو رہے ہیں۔ اربوں روپے کے ٹیکس اور فیس بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں، قومی خزانے کو شدید نقصان، عوامی سہولتوں کے لیے پیسہ کم پڑ رہا ہے۔غیر قانونی وی پی این سے انٹرنیٹ پر بوجھ بڑھ رہا ہے، انٹرنیٹ کی رفتار سست، گھریلو صارف اور کاروبار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ تیز چلنے کے لیے وی پی این لگاتے ہیں، پورا ملک سست ہو جاتا ہے، غیر رجسٹرڈ وی پی این نہ صرف آپ کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی، قانونی وی پی این استعمال کریں، محفوظ رہیں اور ملک کو محفوظ بنائیں۔اپڈیٹ کے نتیجے میں واضح ہوا ہے کہ افغانستان، فتنہ الہندوستان اور پشتون تحفظ موومنٹ سے منسلک متعدد اکاؤنٹس غیر ملکی ایجنڈے پر سرگرم تھے۔ پاکستان کے خلاف نفرت، انتشار اور غلط بیانی پھیلانے والے بھارتی اکاؤنٹس بھی سامنے آ گئے ہیں۔ پاکستان میں دہشتگردی کے بیانیے کو ہوا دینے کیلیے بھارت سمیت کئی ممالک سے اکاؤنٹس آپریٹ کیے جا رہے تھے، جن میں اپنی اصل لوکیشن چھپانے کیلیے VPN کا استعمال بھی عام تھا۔مزید انکشافات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں سے منسلک متعدد اکاؤنٹس بھی بھارت اور دیگر ممالک سے چل رہے تھے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جعلی انسانی حقوق کا ڈھونگ رچانے والے کئی اکاؤنٹس دراصل غیر ملکی نیٹ ورکس نکلے، جن کے روابط بھارت سے ملتے ہیں۔پاکستان دشمنی میں سرگرم ان بیرونِ ملک پروپیگنڈا فیکٹریوں کا پورا نیٹ ورک اب دنیا کے سامنے آشکار ہو چکا ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی نے ورچوئل پرائیویٹ نیٹورک (وی پی این) کا استعمال غیر شرعی دئے جانے کے اعلامیے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں وی پی این کا ”مثبت استعمال” بہت کم ہے کیونکہ یہ زیادہ تر گمنام طور پر ”غیر اخلاقی مواد” تک رسائی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے صارفین پر زور دیا کہ وہ اپنے وی پی اینز کو رجسٹر کرائیں تاکہ ٹریس ایبلٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔وی پی اینز کا استعمال دنیا بھر میں ایسے مواد تک رسائی کے لیے کیا جاتا ہے جو ان کے آبائی ملک میں انٹرنیٹ صارفین کے لیے ناقابل رسائی یا مسدود ہوتے ہیں۔ پاکستان میں وی پی اینز ایکس چلانے کیلئے استعمال کئے جا رہے ہیں۔
پارلیمنٹ کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ قانون سازی کرنے کا مشورہ دینے والی اسلامی نظریاتی کونسل نے ”غیر اخلاقی یا غیر قانونی مواد” تک رسائی کے لیے وی پی این کا استعمال شریعت کے خلاف قرار دیا تھا۔کونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا تھا کہ اسلامی قوانین حکومت کو ایسے اقدامات کو روکنے کی اجازت دیتے ہیں جو ”برائی کے پھیلاؤ” کا باعث بنتے ہیں۔ متنازع، توہین آمیز یا ملکی سالمیت کے خلاف مواد پوسٹ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کسی بھی پلیٹ فارم کو ‘فوری طور پر روک دیا جانا چاہیے’۔اس کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کو ملک بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وی پی این کا استعمال مبینہ طور پر ”غیر اخلاقی مواد” جیسا کہ گستاخانہ مواد یا فحش مواد تک رسائی حاصل کرنے والے صارفین کو ٹریس کرنا مشکل بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ وی پی این صارفین کو غیر اخلاقی مواد تک آن لائن رسائی کی اجازت دیتے ہیں، وی پی این کی اکثریت غیر رجسٹرڈ ہے اور یہ صارفین کو ناقابل شناخت بناتی ہے۔
رجسٹرڈ وی پی اینز اب بھی استعمال کے لیے دستیاب ہوں گے۔ وی پی اینز کا اندراج یقینی بنائے گا کہ سرگرمی کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ مثبت مقاصد کے لیے وی پی اینز کا استعمال بہت کم ہے۔ یہ غیر اخلاقی مواد تک رسائی کے لیے استعمال ہوتے ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔ ان کے استعمال کا پورا نقطہ گمنامی ہے۔کونسل نے 2023 میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا تھا۔ اس وقت کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے ان خدشات کو آگے بڑھایا اور انہیں پی ٹی اے تک پہنچایااور سفارش کی ہے کہ ان وی پی اینز کو بند کردیں جو غیر اخلاقی مواد تک رسائی کو قابل بناتے ہیں۔
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غیر رجسٹرڈ وی پی پی این استعمال قانونی وی پی غیر اخلاقی مواد تک رسائی کے لیے مواد تک رسائی استعمال کریں پی اینز کا پی این کا کا استعمال غیر ملکی ہوتے ہیں رہے ہیں
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :