Express News:
2026-06-03@05:20:08 GMT

ہیری پوٹر سیریز کی نئی کاسٹ کے ساتھ جادو کی دنیا میں واپسی

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

مشہور زمانہ ہیری پوٹر فلم کی ٹی وی سیریز کی صورت میں نئی کاسٹ کے ساتھ جادوی دنیا کی واپسی ہونے والی ہے۔

ایچ بی او کی ہیری پوٹر ٹی وی سیریز ریبوٹ 2027 میں ریلیز ہونے جا رہی ہے، جس میں فلم سیریز کے اصل ’گولڈن ٹرایو‘ یعنی ہیری پوٹر، ہرمیون گرینجر، اور رون ویسلی کی جگہ نئے اداکار لیے گئے ہیں۔

اس سیریز کے لیے گرین سگنل پہلی بار 12 اپریل 2023 کو وارنر بروس ڈسکوری کے پریس ایونٹ میں دیا گیا تھا۔

یہ سیریز اصل کتابوں پر ہی مبنی ہوگی، نہ کہ کسی نئے تصور پر، اور ہر سیزن ایک کتاب کی کہانی پر مشتمل ہوگا۔

ایچ بی او کا کہنا ہے کہ یہ سیریز ایک دہائی تک چلے گی اور اس کا ہر سیزن کتابوں کے اقتباس پر ہوگا۔

وارنر بروس ڈسکوری کے سی ای او ڈیوڈ زاسلاو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس سیریز کی کاسٹ بالکل نئی ہوگی، اور اس کی بنیاد جے کے رولنگ کے اصل ہیری پورٹر کتابوں پر ہوگی۔

سیریز کی پروڈکشن 14 جولائی 2025 سے شروع ہو گئی ہے اور سیریز کا آغاز 2027 میں متوقع ہے۔

اس سیریز میں ہیری پوٹر کا کردار اسکاٹش اداکار ڈومینک میک لاؤگلن ادا کریں گے، جنہوں نے ہیری کی مخصوص یونیفارم اور گردن پر نشان کے ساتھ پہلی نظر میں ہی شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہیری پوٹر سیریز کی

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے