مقبوضہ کشمیر کے مسائل کے حل کیلئے اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے، انجینئر رشید
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
ذرائع کے مطابق انجینئر رشید نے لوک سبھا میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر حل طلب دیرینہ تنازعہ کشمیر کی وجہ سے کشمیریوں کو درپیش مشکلات، مسائل اور مفاہمت کی فوری ضرورت کی طرف مبذول کرانے کیلئے بھوک ہڑتال کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے منتخب بھارتی پارلیمنٹ کے رکن انجینئر عبدالرشید نے بھارتی حکومت اور ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے مسائل کو سیاسی مصلحت کے بجائے انسانیت، سنجیدگی اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ حل کریں۔ ذرائع کے مطابق انجینئر رشید نے لوک سبھا میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر حل طلب دیرینہ تنازعہ کشمیر کی وجہ سے کشمیریوں کو درپیش مشکلات اور مسائل اور مفاہمت کی فوری ضرورت کی طرف مبذول کرانے کیلئے بھوک ہڑتال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ”دوری” کو ختم کرنے کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود،مقبوضہ علاقے کی زمینی صورتحال میں کوئی بہتری واقع نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوم کے بارے میں انسانی ہمدردی کا نقطہ نظر اپنائیں اور تنازعہ کشمیر کے پائیدار اور باوقار حل کیلئے منتخب نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جامع مذکرات شروع کریں۔ انجینئر رشید نے اپنی نظربندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”فی الحال نئی دلی کی تہاڑ جیل میرا گھر ہے۔"
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جموں و کشمیر کے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔