فلسطینی صدر کا چینی صدر کی جانب سے فلسطین کے لیے نئی امداد کے اعلان پر شکریہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
فلسطینی صدر کا چینی صدر کی جانب سے فلسطین کے لیے نئی امداد کے اعلان پر شکریہ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 December, 2025 سب نیوز
بیجنگ:فلسطین کے صدر محمود عباس نے چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے فلسطین کو 10 کروڑ امریکی ڈالر کی امداد فراہم کرنے کے اعلان پر دلی تشکر اور بلندستائش کا اظہار کیا۔یہ امداد غزہ کے انسانی بحران کو کم کرنے اور غزہ کی ابتدائی بحالی اور تعمیر نو کے منصوبوں کی حمایت کے لیے ہے۔
جمعہ کے روز محمود عباس نے کہا کہ یہ فراخ دلانہ اقدام دونوں ممالک اور ان کے عوام کے درمیان مضبوط دوستی کا مظہر ہے، اور ساتھ ہی عدل و انصاف کے لیے چین کے ثابت قدم مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی قیادت فلسطینی عوام کے تئیں خیال اور اُن کی حمایت کرتی ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری اور تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا عزم رکھتی ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچ سکے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے۔
صدر عباس نے عالمی سطح پر فلسطین کی حمایت میں چین کے مستقل مؤقف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی قانون سازوں کا پاکستان میں ‘دھمکانے کے واقعات’ پر کارروائی کا مطالبہ امریکا میں غیر ملکیوں کی اسکریننگ مزید سخت، ورک پرمٹ کی مدت 5 سال سے گھٹا کر 18 ماہ کردی گئی امریکی صدر کا ہائی اسکلڈ ورکرز کیلئے ویزا شرائط سخت کرنے کا حکم یوکرین جنگ، ٹرمپ تجاویز پر روس اور امریکا کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، تعاون جاری رکھنے پر اتفاق ایران میں غیر قانونی طور پر داخل ہونیوالے 10افغان شہری ایرانی بارڈر گارڈز کی فائرنگ سے ہلاک اسرائیلی افواج فلسطینی علاقوں سے نکل جائے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور چین اور روس کے وزرائے خارجہ کا دوسری جنگ عظیم کی فتح کے نتائج کے تحفظ پر زورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ