پی پی 289 ڈی جی خان 4 میں ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
الیکشن کمیشن کی جانب سے پی پی 289 ڈی جی خان 4 میں ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی پی 289 میں پولنگ 25 جنوری کو ہوگی، کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آغاز 10 دسمبر سے ہوگا۔
الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی کی اشاعت 13 دسمبر کو ہوگی جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی آخری تاریخ 18 دسمبر ہے۔
اپیلیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 22 دسمبر ہوگی اور اپیلوں پر فیصلے 29 دسمبر تک ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق نظر ثانی شدہ فہرست 30 دسمبر کو جاری ہوگی جبکہ دستبرداری کی آخری تاریخ 31 دسمبر ہوگی، انتخابی نشانات 1 جنوری کو الاٹ ہوں گے۔
محمود قادر کے رکن قومی اسمبلی بننے کیوجہ سے نشست خالی ہوئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر ڈی جی خان ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر مقرر اور سی ای او ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ڈی جی خان ریٹرننگ افسر مقرر کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈی جی خان
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔