’ڈیٹا لیک‘ سے متعلق صحافی اعزاز سید کے دعوے بنیاد اور گمراہ کن قرار
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
سیکیورٹی ذرائع نے نادرا سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق صحافی اعزاز سید کے دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی ہے۔ یہ دعویٰ اعزاز سید نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک پروگرام میں، اور ایک دوسرے پروگرام میں صحافی عمر چیمہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا، جس پر سیکیورٹی حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی فیلڈ مارشل بہت اہم شخصیت ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی جنرل عاصم منیر کی پھر تعریف
سیکیورٹی ذرائع نے نادرا سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق صحافی اعزاز سید کے حالیہ دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے اسے گمراہ کن قرار دیا ہے۔
نجی ٹی وی سے وابستہ صحافی اعزاز سید نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک پروگرام میں، اور ایک دوسرے پروگرام میں صحافی عمر چیمہ سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ کچھ عرصہ قبل ایک خبر رپورٹ ہوئی تھی جس پر پارلیمنٹ میں انکوائری کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی اس معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا۔
اعزاز سید کے مطابق نادرا سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ڈیٹا لیک ہوا تو ابتدا میں اس بات پر یقین نہیں کیا جا رہا تھا کہ آرمی چیف جیسی انتہائی حساس شخصیت کا ڈیٹا کس طرح لیک ہوسکتا ہے، مگر بعد میں یہ بات درست ثابت ہوئی۔
اعزاز سید کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے ذرائع نے سختی سے منع کیا تھا کہ وہ متعلقہ افراد کے نام ظاہر نہ کریں کیونکہ اس کا تمام بوجھ ایک ہی شخص پر آجائے گا۔ تاہم اب جب کہ وہ متعلقہ عہدیدار اپنے عہدے پر موجود نہیں رہے، اس لیے وہ یہ بات سامنے لا رہے ہیں کہ ڈیٹا لیک معاملے میں جن ناموں کا ذکر آیا، ان میں ایک نام سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا بھی شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ہی اب کشمیریوں کی آخری امید ہیں، مشعال ملک
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ برا نہ مانیں تو یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس انکوائری میں پرانی شخصیات کے نام بھی آئے ہیں۔ ان کے مطابق انکوائری کے دوران 2 سابق اعلیٰ فوجی افسران کے نام بھی سامنے لائے گئے، اور یہ بات ریکارڈ پر ہے۔ ان میں سابق لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس کا نام بھی شامل تھا، جبکہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام بھی زیرِ تحقیق معاملات میں سامنے آیا۔
اعزاز سید کے مطابق اب آئندہ چند دنوں میں شواہد کی جانچ پڑتال اور ان کی باہمی مطابقت کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ تحقیقات کا حتمی نتیجہ کیا بنتا ہے۔ تاہم جو تفصیلات اب تک سامنے آئی ہیں، وہ انکوائری ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
وی نیوز نے اس حوالے سے سیکیورٹی ذرائع سے بات کی تو سیکیورٹی ذرائع نے اعزاز سید کے دعوے کو سختی سے مسترد کیا اور اسے پروپیگنڈا قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنرل اطہر عباس جنرل ساحر شمشاد جنرل عاصم جنرل فیض حمید ڈیٹا لیک نادرا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنرل فیض حمید ڈیٹا لیک صحافی اعزاز سید سیکیورٹی ذرائع اعزاز سید کے پروگرام میں ڈیٹا لیک آرمی چیف نام بھی کیا تھا کا ڈیٹا تھا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔