شهید ھیثم علی طباطبائی نے 9 سال تک اپنے یمنی بھائیوں کو عسکری تربیت دی، شیخ نعیم قاسم
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اپنے ایک خطاب میں حزب الله کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہماری جاسوسی کیلیے بحری اور فضائی طور پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ غیر ملکی شہری اور یہاں تک کہ بعض عرب ممالک کی انٹیلی جنس سروسز بھی اسرائیل کو ہماری معلومات فراہم کر رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب الله" كے سیكرٹری جنرل "شیخ نعیم قاسم" نے شہید "هیثم علی طباطبائی" كی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب كیا۔ اس موقع پر انہوں نے كہا كہ شہید ھیثم علی طباطبائی ایک اسٹریٹجک نقطہ نظر رکھتے تھے۔ وہ منصوبہ بندی، بہادری اور جنگ کے میدان میں حکیمانہ قیادت میں بے مثال تھے۔ وہ 1984ء میں حزب الله سے جڑے۔ وہ 9 سال تک یمن میں رہے، جہاں انہوں نے اس ملک میں اپنے بھائیوں کی عسكری تربیت كی۔ اسی وجہ سے وہ یمنی عوام میں مقبول ہوئے۔ انہوں نے "اولی البأس" لڑائی کی کمانڈ کی۔ اولی البأس وہ نام تھا جسے حزب الله کے سابق سیکرٹری جنرل شہید "سید حسن نصر الله" نے اسرائیل کے ساتھ تازہ جنگ کے لیے منتخب کیا۔ جس کے تحت مجاہدین نے 17 ستمبر سے 27 نومبر (72 دن) تک اسرائیلی فوج کے خلاف 1666 فوجی آپریشنز کئے، جن کی اوسطاً تعداد، یومیہ 23 آپریشنز تھی۔ اس عرصے کے دوران 130 سے زائد صیہونی فوجی اور آبادکار ہلاک جب کہ 1250 سے زائد زخمی ہوئے۔
شیخ نعیم قاسم نے حزب الله کو مضبوط جڑوں والی تحریک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس راستے میں ہزاروں شہید دئیے، لیکن ہر مرحلے پر ہم اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب رہے۔ لبنان میں دشمن کے ایجنٹوں کے کئی گینگ موجود ہیں جنہیں سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا۔ بہرحال، ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے، خلاء کو پر کرنا چاہیے اور ماضی سے سبق سیكھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ھیثم علی طباطبائی کا قتل ایک واضح جارحیت ہے اور ہمیں اس کا جواب دینے کا حق ہے۔ تاہم جوابی کارروائی کے تعین کا وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہماری جاسوسی کے لیے بحری اور فضائی طور پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ غیر ملکی شہری اور یہاں تک کہ بعض عرب ممالک کی انٹیلی جنس سروسز بھی اسرائیل کو ہماری معلومات فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے حزب الله کے ساتھ سیز فائر کا معاہدہ، لبنانی عوام اور استقامتی محاذ کی فتح ہے۔ دشمن، لبنان سے مقاومت اسلامی کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا جسے ہم نے ناکام بنا دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علی طباطبائی انہوں نے رہی ہیں
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔