پاکستان کی پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی دے دی ہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ پختونخواہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کی پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی دے دی ہے۔
خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ اپنی حکومت کی تمام ذمہ داریاں چھوڑ کر راول پنڈی کی اڈیالہ جیل کے قریب ایک پولیس چیک پوسٹ پر ایک دن بیٹھے رہے، ان کی ضد تھی کہ جیل کے حکام ان کی جیل میں قید کی سزا کاٹ رہے ان کی پارٹی کے بانی سے ملاقات کروائیں۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی ملاقاتیں کرنے کی اجازت نہیں دے رہے، یہ ملاقاتین جیل کے قواعد کے خلاف ہیں۔ جیل حکام کے اس انکار کو لے کر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اڈیالہ جیل والی سڑک پر ایک نالے کے کنارے بیتھ کر رات گزاری۔
پاکستان نے افغانستان سے تاجکستان سرحد پر چینی شہریوں پرحملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا
آج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر پاکستان کی پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی دے دی۔
جمعہ کو اڈیالہ جیل کے باہر رات نالے کے کنارے گزارنے کے بعد سہیل آفریدی صبح کو اسلام آباد چلے گئے اور وہاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کرنے کی کوشش کی۔ چیف جسٹس نے ججوں کے طریقہ کار پر عمل کیا اور ایک وزیراعلیٰ سے اس اچانک، بے وجہ ملاقات سے انکار کر دیا۔
شہر کی فضا بدستور آلودہ،سول سیکرٹریٹ میں آلودگی کی شرح خطرناک حد سے تجاوز کر گئی
بعد میں میڈیا کے کیمروں کے سامنےسہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ میں تمام آئینی اور قانونی راستے اپنا چکا ہوں ، ایسا کون سا راستہ بچا ہے جس کے بعد میں اپنے لیڈر سے ملاقات کرسکوں۔
وزیر اعلیٰ خیپر پختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا کیمروں ےک سامنے دھمکی دی کہ میری عمران خان سے ملاقات نہ کراوائی گئی تو میں پارلیمنٹ کی کارروائی نہیں چلنے دوں گا۔ اس کے ساتھ سہیل آفریدی نے منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ۔
بلوچستان میں نان کسٹم پیڈگاڑیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
ایک اور 26نومبر برپا کرنے کی دھمکی
مؤثق میڈیا آؤٹ لیٹس کی رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی نے ہائی کورٹ کو بھی دھمکی دی کہ اگر عدالت انصاف نہ کرپائے تو عوام خود انصاف کریں گے۔ عوام انصاف کریں گے تو قانون کو بھی ہاتھ میں لیں گے ، حالات خراب ہوئے تو کنٹرول نہیں ہوسکیں گے۔
دوسری جانب امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی کو آج ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے ۔ سہیل آفریدی نے جب گورکھپور پولیس چیک پوسٹ کے قریب نالے کے کنارے پر دھرنا دیا تھا تو وہاں معمولی نفری موجود رہی کیونکہ سہیل آفریدی کے ساتھ کچھ ہی لوگ موجود رہے۔ اب سہیل آفریدی دھرنا چھوڑ کر واپس پشاور جا چکے ہیں۔
ڈاکٹر نبیحہ علی خان کی نئی ویڈیو سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئی
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نے کی کارروائی نہ اڈیالہ جیل سے ملاقات کی دھمکی جیل کے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔