وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی دے دی۔
سہیل آفریدی نے منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا۔
اڈیالہ جیل کے باہر رات بھر کے دھرنے کے بعد عدالت جانے والے وزیرِ اعلیٰ کے پی سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔
آپ نے مجھے کیوں روکا؟ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا پولیس افسران سے سوالاس موقع پر سہیل آفریدی نے پولیس افسران سے سوال کیا آپ نے مجھے کیوں روکا؟ ہم ڈیڑھ سال سے قانون اور آئین کا احترام کر رہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ تمام آئینی اور قانونی راستے اپنا چکے ہیں، ایسا کون سا راستہ بچا ہے جس کے بعد ہم اپنے لیڈر سے ملاقات کر سکیں؟
انہوں نے کہا کہ اگر عدالت انصاف نہ کر پائے تو عوام خود انصاف کریں گے، عوام انصاف کریں گے تو قانون بھی ہاتھ میں لیں گے، حالات خراب ہوئے تو کنٹرول نہیں ہوسکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔