بھارت میں دوسری شادی پر پابندی کا بل منظور؛ 10 سال قید اور بھاری جرمانہ ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
بھارتی ریاست آسام کی اسمبلی نے ایک متنازع قانون منظور کرلیا جسے مسلم دشمنی پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست آسام میں اس قانون کی منظوری کے بعد ایک سے زائد شادی (پولیگمی) کو جرم قرار دیدیا گیا۔
جس کے تحت پہلی شادی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے پر 7 سال قید ہوسکتی ہے تاہم پہلی بیوی سے اجازت نہ لی تو سزا میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اسی طرح پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے پر 10 سال قید ہوسکتی ہے اور بار بار یہ جرم کرنے پر سزا دگنی ہوجائے گی۔
دوسری شادی کرنے اور کروانے والوں کو سرکاری نوکری یا مقامی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔
اسی طرح دوسری شادی کروانے یا اس میں معاونت دینے والوں مثلاً گاؤں کے سرپنچ، مذہبی پیشوا، والدین یا سرپرست کو بھی 2 سال قید اور ایک لاکھ روپے سے ڈیڑھ لاکھ تک جرمانہ ہوگا۔
علاوہ ازیں اس بل میں غیر قانونی شادی کی شکار خواتین کو معاوضہ اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کی بھی شق شامل ہے۔
بل کی منظوری کے بعد وزیراعلیٰ نے بتایا کہ یہ قانون اسلام مخالف نہیں بلکہ پورے معاشرے میں ازدواجی ذمہ داری اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
انھوں نے مثال دی کہ دیگر ممالک جیسے ترکیہ نے بھی دوسری شادی پر پابندی عائد کی ہے۔
اس قانون کو ذاتی آزادی اور مذہبی روایات پر قدغن سمجھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں یا کمیونٹیز میں جہاں دوسری شادی کی مذہباً یا روایتاً اجازت ہے۔
مخصوص قبائل، نسل اور خود مختار علاقوں سمیت چند طبقات کو اس قانون سے جزوی استثنیٰ دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔