وزیراعظم شہبازشریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد باہر آکر پریس کانفرنس نہیں ہونی چاہیے نہ ملاقات میں سیاسی گفتگو ہونی چاہیے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ سے سوال کیا گیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہونے دی جا رہی؟

رانا ثنااللہ نے جواب دیا کہ اس حوالے سے پی ٹی آئی کا اپنا مؤقف ہے اور حکومت کا اپنا مؤقف ہے۔ ملاقات ہونی چاہیے لیکن ملاقات کے بعد ڈیڑھ گھنٹے کی پریس کانفرنس نہیں ہونی چاہیے کیونکہ کوئی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں عمران خان کا پیغام ریلیز ہو، پوری دنیا اور پوری پارٹی کے لیے، سیاسی باتیں ہوں، تحریک چلانے اور جلاؤ گھیراؤ کی باتیں ہوں، اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی باتیں ہوں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح ملاقاتوں میں سیاست ڈسکس نہیں ہو سکتی۔

رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ کوئی بھی جیل میں بیٹھ کر قانون کے مطابق باہر تحریک چلانے کی منصوبہ بندی نہیں کر سکتا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ میں جیل میں بیٹھ کر 26 نومبر احتجاج کے لیے تحریک منظم کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی ملاقاتوں پر بھی پابندی لگائی گئی تھی، صرف فیملی ممبرز کی ملاقاتیں ہوتی تھیں، اور فیملی ممبرز کو بھی اجازت نہیں تھی کہ وہ جیل میں ملاقات کے بعد ڈیڑھ گھنٹے کی پریس کانفرنس کریں اور ٹوئٹ کے ذریعے پوری حکومت اور اداروں کو لپیٹیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ملاقاتوں کی اجازت انہی شرائط پر دی تھی کہ ملاقات کریں، میڈیا ٹاک نہ کریں اور سیاست نہ کریں، لیکن پی ٹی آئی والے یہ دونوں کام کر رہے ہیں، اس لیے انہیں روکا گیا لیکن وہ نہیں رکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کام ہوتے ہیں تو جیل سپرنٹنڈنٹ حکومت سے پوچھے گا نہ کہ کیا تماشا کروا رہے ہو، پھر وہ ملاقاتوں پر پابندی لگائے گا۔

رانا ثنااللہ نے آخر میں کہا کہ پی ٹی آئی جیل حکام کے ساتھ ملاقاتوں کا معاملہ اٹھائے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عمران خان سے ملاقات رانا ثنااللہ نے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس ہونی چاہیے پی ٹی آئی جیل میں کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی

سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا  اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔

وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے  ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک  میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔

پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے

2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں  نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان