کینیڈا میں تعلیم کے خواہش مند طلبا کیلیے خوشخبری؛ اسٹڈی پرمٹ کا نیا نظام نافذ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
کینیڈا نے غیرملکی طلبا کے لیے اسٹڈی پرمٹ پالیسی میں نمایاں اور قابل زکر تبدیلیاں کردیں جسے 4 لاکھ 8 ہزار طلبا مستفید ہوسکتے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیڈا نے آئندہ برس 2026 کے لیے اسٹڈی ویزا کے لیے نئی پالیسی کے نفاذ کا اعلان کردیا۔
اس پالیسی کے تحت میں اسٹڈی پرمٹس کی مجموعی تعداد میں کم کر دی جائے گی جو ملک میں عارضی رہائشیوں کی شرح کو کم کرنے کے سرکاری منصوبے کا حصہ ہے۔
کینیڈا کے امیگریشن حکام نے بتایا کہ اس پالیسی کے تحت 4 لاکھ 8 ہزار غیر ملکی طلبا کو خیر مقدم کریں گے جن میں ایک لاکھ 55 ہزار نئے جب کہ 2 لاکھ 53 ہزار موجودہ یا واپس آنے والے طلبا ہوں گے۔
یہ تعداد کینیڈا میں رواں برس یعنی 2025 کے مقابلے میں 7 فیصد اور 2024 کے مقابلے میں 16 فیصد تک کم ہے۔
کینیڈا کے امیگریشن حکام نے مزید بتایا کہ یہ کمی بین الاقوامی اسٹوڈنٹ پروگرام کو متوازن اور قومی ضروریات کے مطابق رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
غیر ملکی طلبا جو ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کے لیے کینیڈا آئیں گے انھیں یکم جنوری 2026 سے ایک اور اہم سہولت متعارف کرائی گئی ہے۔
سرکاری تعلیمی اداروں میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کرنے والے غیر ملکی طلبا کو PAL یا TAL لیٹر کے بغیر ہی اسٹڈی پرمٹ کے لیے درخواست دینے کی اجازت ہوگی۔
جس سے تقریباً 49 ہزار طلبا براہ راست فائدہ اٹھائیں گے جس کا مقصد تحقیقی میدان اور ملکی جدّت کو فروغ دینا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔