مداحوں کیلیے خوشخبری؛ رونالڈو کو ورلڈ کپ کا افتتاحی میچ کھیلنے کی اجازت مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے اسٹار فٹبالر کرسٹیاںو رونالڈو کے خلاف تین میچوں کی پابندی میں سے دو میچوں کی سزا معطل کر دی.
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس سزا کی معطلی کے بعد عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو ورلڈ کپ 2026 کا افتتاحی میچ کھیل سکیں گے جس کے لیے لاکھوں مداحوں کی نظریں فیفا پر ٹھہری ہوئی تھیں۔
یاد رہے کہ کرسٹیانو رونالڈو کو رواں ماہ آئرلینڈ کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائر میچ میں آئرش ڈیفینڈر دارا او شی کو کہنی مارنے کے الزام میں براہ راست ریڈ کارڈ ملا تھا۔
یہ اسٹار کھلاڑی کے 226 بین الاقوامی میچوں میں پہلا ریڈ کارڈ تھا تاہم فیفا نے ان پر 3 میچوں میں کھیلنے پر پابندی عائد کی تھی۔
جن میں سے ایک میچ کی سزا وہ پہلے ہی آرمینیا اور پرتگال کے کھیلے گئے میچ میں شریک نہ ہوکر مکمل کر چکے ہیں۔
تاہم اب فیفا نے کرسٹیانو رونالڈو پر باقی دو میچوں پر عائد پابندیوں کو ایک سال کی عبوری مدت کے لیے اُٹھالی ہے۔
فیفا نے شرط رکھی ہے کہ اگر رونالڈو نے آئندہ ایک سال میں اسی نوعیت کی خلاف ورزی کی تو دونوں میچوں کی معطل سزا فوراً بحال کر دی جائے گی۔
خیال رہے کہ 40 سالہ رونالڈو کا یہ چھٹا ورلڈ کپ ہوگا جس کے لیے وہ کافی پُرعزم ہیں کیوں کہ اب تک کرسٹیانو رونالڈو کا ورلڈ کپ جیتنے کا خواب پورا نہیں ہوسکا ہے۔
ورلڈ کپ 2026 کا ڈرا 5 دسمبر کو واشنگٹن کے جان ایف کینیڈی سینٹر میں ہوگا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو موجود ہوں گے۔
ادھر فیفا کے صدر نے یہ کہہ کر کہ ورلڈ کپ 2026 کے 104 میچ ایسے ہوں گے جیسے 104 سپر باؤلز۔" فٹبال کے مداحوں کو پرجوش کردیا ہے۔
فٹبال کے مداح اور رونالڈو کے دیوانے فیفا کے پابندی ہٹانے کے فیصلے اور سپر باؤلز کے بیان پر پھولے نہیں سما رہے ہیں۔
جس کے باعث ورلڈ کپ 2026 کا جوش و خروش اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرسٹیانو رونالڈو ورلڈ کپ 2026
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،