کرسٹیانو رونالڈو 511 سالہ قدیم چرچ میں دلہا بنیں گے؛ شادی کب ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کے دلکش اور مہارت سے بھرپور گولز کی طرح مداح ان کی شادی کے لیے بھی بے چینی سے منتظر رہتے ہیں۔
یوں تو کرسٹیانو رونالڈو کے 5 بچے ہیں لیکن قانوناً اب تک وہ ’’کنوارے‘‘ ہیں۔ ان کی پہلی اولاد 17 سالہ کرسٹیانو جونیئر ہے جن کی ماں کا نام رونالڈو کبھی منظرعام پر نہیں لائے۔
کرسٹیانو جونیئر بھی اپنی ماں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور وہ شروع سے ہی اپنے والد رونالڈو کی کسٹڈی میں ہی ہیں۔
جس کے بعد 2017 میں سیروگریسی کے ذریعے اسٹار فٹبالر کے جڑواں بچے ہوئے تاہم سیروگریٹ ماں کے بارے میں بھی کسی کو کچھ نہیں پتا ہے۔
اسٹار فٹبالر کی 2016 میں جارجینا سے ملاقات ہوئی اور دونوں ایک ساتھ رہنے لگے۔ ان کی پہلی اولاد 2017 میں ہوئی اور دوسری بیٹی 2022 میں ہوئی۔
جس کے بعد لاکھوں دلوں کی دھڑکن کرسٹیانو رونالڈو نے اپنے بچوں کے اصرار پر گھر بسانے کا سوچا اور جارجینا سے منگنی کرلی۔
تاہم ان کے چاہنے والے منتظر تھے کہ کب اسٹار فٹبالر ایک شاندار تقریب میں دلہا بنتے ہیں اور انتظار کی یہ گھڑیاں اب ختم ہوتی نظر آرہی ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق کرسٹیانو رونالڈو نے شادی کے لیے جگہ کا انتخاب کرلیا ہے۔ وہ اپنی زندگی کا سب سے اہم لمحہ آبائی شہر مڈیرا میں واقع 511 سال قدیم چرچ میں انجام دیں گے۔
فنچال کیتھیڈرل کے نام سے شہرت رکھنے والے اس تاریخی گرجا گھر کو 1514 میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ خطے کی قدیم ترین عبادت گاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رونالڈو اور ان کی منگیتر جارجینا روڈریگس آئندہ برس ورلڈ کپ کے اختتام کے بعد رشتۂ ازدواج میں بندھیں گے۔
اس چرچ کا انتخاب کیوں کیا ؟
فنچال کیتھیڈرل نہ صرف ایک تعمیراتی شاہکار ہے بلکہ رونالڈو کی زندگی سے گہرا جذباتی رشتہ بھی رکھتا ہے۔ یہ اُس اسپتال سے صرف دو میل دوری پر ہے جہاں رونالڈو کی پیدائش ہوئی تھی جب کہ یہی علاقہ ان کے بچپن کی یادوں اور فٹبال کے سفر کی ابتدا سے بھی جڑا ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرسٹیانو رونالڈو
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔