لاہور(نیوزڈیسک) مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ نفرت، جھوٹ، گالی گلوچ، منافقت، بدتمیزی، بدتہذہبی، دنگا فساد، فتنے کو بری طرح شکست ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق نوازشریف کا کہناتھا کہ 2017میں ہمارا گروتھ ریٹ بڑھ رہا تھا،3فیصد پرمہنگائی تھی، یہ 39فیصد پر مہنگائی کو لے کرگئے، پھر 4 فیصد پر آ گئی ہے، انہوں نے جو حالات پیدا کیے اس کا خمیازہ ہر پاکستانی بھگت رہا ہے، 1999میں پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا، 1999میں سعودی ریال کا ریٹ 11روپے تھا، ہمارے جانے کے بعد ملک میں بہت تباہی پھیری گئی، ملک کا ستیاناس کر کے رکھ دیا گیا، بدتمیزی،بدتہذہبی،دنگافساد،فتنہ فسادکے ذریعے ملک کا دیوالیہ نکال دیا۔

نوازشریف کا کہناتھا کہ وہ ترقی کی رفتار رہتی تو آج پتا نہیں کہاں پہنچ چکے ہوتے، آئی ایم ایف اور زرمبادلہ کےذخائر کی کوئی فکر نہ ہوتی، زرمبادلہ ذخائر،آئی ایم ایف کا فکر ہی ہمیں لے کر بیٹھ گیا ہے، کئی فیصلے ہم خود نہیں کر سکتے،غیروں کے ہاتھ میں ہیں، انہوں نے ہی ملک کے فیصلے غیروں کے ہاتھ میں دیئے، 2018سے 2022 تک جو ہوتا رہا وہ ساری ذمہ داری ان کے سر ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ لوگوں نے آپ کو ووٹ کارکردگی کی بنیاد پر دیا، سب نے ملک کر شہبازشریف اور مریم نواز کا ہاتھ بٹانا ہے، ڈیڑھ سال میں عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے، اکانومی کو گڑھے سے پھر باہر نکال دیاگیا، پاکستان کو ڈیفالٹ اور بینک کرپسی سے بچایا، پاکستان اقتصادی، اخلاقی،معاشرتی،معاشی دیوالیہ ہوچکا تھا، پاکستان میں انسانیت کا بھی دیوالیہ پن کردیا گیاتھا، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں کا پیار ختم کر دیا گیا تھا، کرکٹ کھیلنے کیلئے آئے تھے،وہی کھیل 5سال تک کھیلتے رہے، ملک اور قوم کا دیوالیہ نکال دیا گیا،خارجہ امور کا دیوالیہ نکال دیا گیا۔

ان کا کہناتھا کہ آئی ایم ایف سے جان چھڑائی تھی،انہوں نے پھر سر پر لاکر بٹھادیا، ان کے زمانے میں میرٹ کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا تھا، دوبارہ سب چیزیں بحال کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، بانی پی ٹی آئی اکیلا نہیں،اس کو لانے والے اس سے بڑے مجرم تھے، بانی پی ٹی آئی کو لانے والوں سے بھی پورا پورا انصاف لینا چاہیے، ان کا بیانیہ دوسروں کو چور اور ڈاکو کہنا تھا، خود یہ چوری اور ڈاکوں میں سب سے آگے تھے، ان کی سب داستانیں سامنےآرہی ہیں، فتنہ فساد،الزام تراشی، ماردو کے بیانیہ سے قومیں ترقی کرتی ہیں؟۔

نوازشریف نے کہا کہ پنجاب میں غریبوں کے 1لاکھ 20 ہزار نئے گھر بن رہے ہیں، پنجاب میں غریبوں کو مفت ادویات مل رہی ہیں، پنجاب میں غریبوں کا مفت علاج معالجہ ہو رہا ہے، نئے اسپتال شروع کر رہے ہیں،طلبا کو اسکالرشپس، لیپ ٹاپ مل رہے ہیں، ستھر اپنجاب اپنا کام دکھا رہا ہے،ہرشہرمیں گرین بسیں پہنچ رہی ہیں، پنجاب کا امن وامان بہتر ہوگیا ہے، لوگوں کو راشن کارڈ مل رہے ہیں، پنجاب میں مذہب کی کوئی تفریق نہیں، دوسرے مذاہب کے لوگوں کیلئے بھی کام ہو رہے ہیں، سیلاب میں حکومت نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

صدر مسلم لیگ کا کہناتھا کہ انہوں نے کہا الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے، یہ کیسا بائیکاٹ ہے جس میں عمرایوب کی بیوی خود الیکشن لڑ رہی تھی؟، کیا بائیکاٹ ایسا ہوتا ہے؟ ان کے امیدوار اپنے لیڈرکی تصویریں اٹھا کر کھڑے تھے، ضمنی الیکشن میں جیتنے والوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکبادپیش کرتا ہوں، ہری پور میں ن لیگ کے امیدوار 44 ہزار کی لیڈ سے جیتے ہیں، ہر روز نیا چیف سیکرٹری آ رہا تھا،تیسرے دن نیا آئی جی آرہا تھا، ان کے دور میں کوئی مستقل مزاجی نہیں تھی،ڈھنگ کے کام نہیں ہورہے، ان کے دور میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے، ترقی یافتہ کام ہمیشہ مسلم لیگ ن کے دورمیں ہی ہوئےہیں، ان کی حکومت جہاں بھی تھی وہاں برے حالات تھے، شہبازشریف اور مریم نواز مجھ سے بھی آگےنکل گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن