Express News:
2026-07-24@04:40:59 GMT

دہشت گردوں کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

ایف سی ہیڈ کوارٹر پشاور پر 3 دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی، دہشت گردی کی اس کارروائی میں 3 جوان شہید اور 11 زخمی ہوئے، جوابی کارروائی میں تینوں دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے سی ٹی ڈی کے مطابق تینوں حملہ آور ایک ہی موٹر سائیکل پر آئے تھے۔ دہشت گردوں کے پاس کلاشنکوف اور 8 سے زائد دستی بم موجود تھے۔ پولیس نے دہشت گردی میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی تحویل میں لے لی ہے۔

 پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ نہ صرف موجود ہے بلکہ اپنی پوری شدت کے ساتھ ملک کی سلامتی اور امن کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ حملہ صرف ایک عمارت یا چند افراد پر نہیں تھا، بلکہ یہ پاکستان کی ریاست، اس کے اداروں اور اس کی سالمیت پر حملہ تھا۔

دہشت گردوں کے عزائم ہمیشہ سے یہی رہے ہیں کہ وہ خوف پھیلائیں، ریاست کو کمزور دکھائیں اور دنیا کو باور کرائیں کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہے، مگر اس بار بھی، ہمیشہ کی طرح، ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کر کے نہ صرف حملے کو محدود کیا بلکہ تینوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کر کے دشمن کے ارادے خاک میں ملا دیے۔

یہ امر نہایت قابل توجہ ہے کہ تین مسلح دہشت گرد بغیر کسی رکاوٹ یا چیکنگ کے حساس ادارے کے قریب تک پہنچ گئے، اگرچہ سیکیورٹی فورسز نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ ناکام بنایا، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے عناصر شہر کے اندر تک کیسے داخل ہوئے؟ موٹر سائیکل کی برآمدگی، دستی بموں اور کلاشنکوفوں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ حملہ نہایت منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک شدہ دہشت گردوں کے جسمانی اعضا ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے لیبارٹری بھجوائے جا چکے ہیں، تاکہ ان کی شناخت، ان کے نیٹ ورک اور ان کے ممکنہ سہولت کاروں تک پہنچا جا سکے۔ اس عمل کا مقصد صرف اس حملے کی ذمے داری طے کرنا نہیں بلکہ اس پوری کڑیاں توڑنا ہے جو دہشت گردی کے دھاگے کو مضبوط کرتی ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کا براہِ راست تعلق افغانستان کی موجودہ صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں کہ افغانستان کی سرزمین پچھلے کئی برسوں سے پاکستان مخالف گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کا کردار ادا کر رہی ہے۔

افغانستان کی عبوری حکومت نے دنیا سے وعدے کیے تھے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی، لیکن عملی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ، ان کے حملوں کی شدت اور اسلحے کی جدید اقسام کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اب محض چند چھوٹے گروہوں کا کھیل نہیں رہا بلکہ اس کے پیچھے منظم نیٹ ورک، تربیت یافتہ عناصر اور ریاست مخالف ایجنڈے کو پروان چڑھانے والی قوتیں سرگرم ہیں۔

 افغانستان اور بھارت کا تعلق اس معاملے میں بھی بار بار زیرِ بحث آ رہا ہے۔ یہ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ بھارت خطے میں پاکستان کو کمزور کرنے کی پالیسی پرگامزن ہے اور افغانستان اس کے لیے ایک کلیدی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، اور بھارت کی جانب سے وہاں کیے گئے سرمایہ کاری کے نام پر ایسے ڈھانچے قائم کیے گئے جن کا مقصد پاکستان مخالف کارروائیوں کو سہولت دینا تھا۔ آج بھی، جب خطے کی صورتحال بدل چکی ہے، بھارتی نیٹ ورک مختلف روپوں میں فعال ہیں اور وہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ یہ نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے کی مجموعی امن و استحکام کے لیے بھی تشویش ناک امر ہے۔

پاکستان نے افغانستان کے لیے ہمیشہ اپنا دامن خیرسگالی سے بھرا رکھا۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی سے لے کر افغان امن مذاکرات کی حمایت تک، پاکستان نے ہر موڑ پر خیر خواہی ثابت کی لیکن افغان عبوری حکومت کی جانب سے اس کا جو بدلہ دیا جا رہا ہے، وہ افسوسناک ہے۔ سرحد پار سے بڑھتی دہشت گردی، پاکستان مخالف دھڑے مضبوط ہونے، اور افغان سرزمین کے دہشت گردوں کے لیے استعمال ہونے جیسے اقدامات نہ صرف اعتماد کے رشتے کو مجروح کر رہے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

افغانستان کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے عزائم رکھنے والوں کے ہاتھوں استعمال ہوتا رہے گا تو وہ خود بھی طویل المدتی نقصان سے نہیں بچ سکے گا۔ دہشت گرد کسی کے وفادار نہیں ہوتے، وہ صرف تباہی کی زبان سمجھتے ہیں، اور اگر انھیں وقت پر لگام نہ ڈالی گئی تو ان کا رخ بغاوت اور خونریزی کی طرف ہی ہوتا ہے، جس سے کوئی ملک محفوظ نہیں رہتا۔

پاکستان کے اندر موجود سہولت کار اس جنگ کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ یہ عناصر کبھی مذہب کا سہارا لیتے ہیں، کبھی سیاست کا اور کبھی معصومیت کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کی حفاظت تو کر سکتی ہیں، مگر اندرونِ ملک موجود ایسے دشمنوں سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کو ایک مشترکہ حکمت عملی درکار ہے۔ جب تک ان سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا، دہشت گردی کے خاتمے کا خواب ادھورا رہے گا۔ ریاست کو نہایت سختی کے ساتھ یہ پیغام دینا ہوگا کہ جو پاکستان کے دشمنوں کی مدد کرے گا وہ بھی اتنا ہی مجرم ہے جتنا ہتھیار اٹھانے والا دہشت گرد۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک سامنے سے وار کرتا ہے اور دوسرا پشت سے، مگر دونوں ہی قومی سلامتی کے مجرم ہیں۔

سیکیورٹی لیپسز کا مسئلہ بھی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کا ایک ہی موٹر سائیکل پر مسلح ہو کر حساس اداروں کے قریب تک پہنچ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں نگرانی، چیکنگ اور احتیاط میں کمی موجود ہے۔ یہ درست ہے کہ ریاست ہر لمحے ہر جگہ موجود نہیں ہو سکتی، مگر حساس تنصیبات، سرکاری عمارات اور اہم مقامات پر نگرانی کا نظام مضبوط ہونا چاہیے۔ سی سی ٹی وی کیمرے، جدید ٹیکنالوجی، بائیو میٹرک سسٹمز، بہتر تربیت یافتہ سیکیورٹی اہلکار اور مربوط انٹیلی جنس کا نیٹ ورک اس وقت کی بنیادی ضرورت ہیں۔

قومی سطح پر اتحاد و یکجہتی بھی نہایت اہم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا پولیس نہیں لڑسکتی، یہ پورے ملک کی جنگ ہے۔ جب قوم تقسیم کا شکار ہوتی ہے تو دہشت گرد مضبوط ہوتے ہیں اور جب قوم متحد ہوتی ہے تو دشمن کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی سلامتی ایسے معاملات میں سیاست سے بالاتر ہوتی ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر دہشت گردی کے معاملے میں ایک آواز ہونا ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔

 اس حملے کی تحقیقات صرف اس واقعے تک محدود نہیں رہنی چاہییں۔ دہشت گرد کہاں سے آئے؟ کس نے انھیں سہولت دی؟ کس نے انھیں راستے دکھائے؟ کون ان کے نظریات کو ہوا دیتا رہا؟ کون ان کے لیے ذرایع فراہم کرتا رہا؟ جب تک ان تمام سوالوں کے جوابات نہیں ملتے، پاکستان کے اندر امن مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے گا۔ ریاست کو فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے، سخت فیصلے کرنے ہوں گے اور پاکستان دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔

افغانستان کی حکومت کو بھی اپنا کردار دیکھنا ہوگا۔ اسے اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے، اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنی ہوگی اور پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا، جو ہمیشہ اس کا خیر خواہ رہا ہے۔ بصورتِ دیگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی، جس کا نقصان صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان کو بھی بھرپور بھگتنا پڑے گا۔ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر یقین رکھنا چاہیے کہ پاکستان اس جنگ میں سرخرو ہوگا، کیونکہ یہ وطن لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل ہوا تھا، اور آج بھی اس کی حفاظت کے لیے ہمارے جوان جانیں نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دہشت گردوں کے افغانستان کی دہشت گردی کے موٹر سائیکل پاکستان کے کہ پاکستان نیٹ ورک رہے ہیں کے خلاف رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن