Jang News:
2026-07-24@06:10:35 GMT

زیارت: دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 5 گرفتار

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

زیارت: دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 5 گرفتار

—فائل فوٹو

بلوچستان کے ضلع زیارت میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا گیا اور 5 دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے۔

ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) زیارت ریاض داوڑ نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور لیویز فورس نے دہشت گردوں کو سپیرارغہ سے گرفتار کیا ہے۔

ڈی سی زیارت نے کہا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے، جن کے قبضے سے 11 دستی بم، 3 ایس ایم جیز، 2 ایم فور رائفلز اور ایک گرینیڈ لانچر برآمد ہوا ہے۔

ریاض داوڑ نے بتایا ہے کہ دہشت گردوں سے ایک کلو بارودی مواد، 6 وائرلیس سیٹ، 4 موبائل فونز، 2 آر پی جی اور 13 ایمونیشن بیگ برآمد ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار دہشت گردوں سے 15 ایس ایم جی گرینیڈ، ایک کیری وین، ایک موٹر سائیکل اور کالعدم ٹی ٹی پی کا لٹریچر برآمد ہوا ہے۔

صوبائی حکومت کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کامیاب کارروائی پر زیارت انتظامیہ اور لیویز فورس کو سراہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار