زیارت، لیویز فورس کی کارروائی، کالعدم ٹی ٹی پی کے 5 دہشتگرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
ڈپٹی کمشنر زیارت نے بتایا کہ کارروائی کے دوران پانچ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جنکا تعلق قندھار، افغانستان سے ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لیویز فورس نے بلوچستان کے ضلع زیارت میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے پانچ مبینہ دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ جن کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر زیارت نے بتایا کہ کارروائی کے دوران پانچ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جن کا تعلق قندھار، افغانستان سے ہے۔ مبینہ دہشت گردوں کو سپیرا رغہ لیویز چیک پوسٹ سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور مواصلاتی آلات برآمد ہوئے، جن میں 11 ہینڈ گرنیڈ، 3 ایس ایم جیز، 2 ایم فور رائفلز، ایک گرنیڈ لانچر، 9 ایم فور میگزینز، 14 ایس ایم جی میگزینز، 420 ایس ایم جی رانڈز، 230 ایم فور رانڈز، ایک کلو بارودی مواد، 6 وائرلیس سیٹس، 4 موبائل فونز، 2 آر پی جیز، ایک ڈگر، 13 ایمونیشن بیگز، 16 پاور سیلز، 15 ایس ایم جی گرینیڈز، ایک سوزوکی کیری وین، ایک موٹر سائیکل اور کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کا لٹریچر شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایس ایم
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔