خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں، 13 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
پہاڑ خیل میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پرچھاپا، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
ہلاک دہشت گردمعصوم شہریوں پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے، آئی ایس پی آر
سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف دو مختلف کارروائیوں کے دوران بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 13 خوارج کو ہلاک کردیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ضلع لکی مروت کے علاقے پہاڑ خیل میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی۔بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 10 خوارج مارے گئے اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو کلیٔر کرتے ہوئے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر دوسری کارروائی ڈیرہ اسماعیل خان میں کی گئی جہاں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد بھارت کی سرپرستی میں سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد کے ممکنہ ٹھکانے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ عزم استحکام کے تحت ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور رفتار سے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز نے ا ئی ایس پی ا ر
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔