دبئی ائیر شو میں بھارتی طیارہ تیجس گر کر تباہ، بھارتی عوام کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
بھارتی عوام نے تیجس کی ناکامی پر فضائیہ کی نااہلی اور قیادت کی غفلت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ایئر چیف کے غیر سنجیدہ رویے پر عوام نے غصے کا اظہار کیا ہے اور پیشہ ورانہ نااہلی پر فوری برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔
لوگ تیجس کے گرنے کو حکومتی نالائقی اور دفاعی تباہ حالی کی علامت قرار دینے لگے، بھارتی عوام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ فضائیہ کے سربراہ کا پیشہ ورانہ نظم و ضبط کے بجائے بالی ووڈ انداز کے بیانات کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔
بھارتی عوام نے کہا کہ تیجس کی تباہی پوری دنیا کے سامنے ہمارے لیے ایک بڑی توہین ہے، بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو فوراً عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔ پاکستان کی کامیابی کو اُجاگر کرنے والی امریکی کانگریس کی رپورٹ کے بعد مودی کو بھی استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مودی کا ’’میک اِن انڈیا‘‘ محض ایک دکھاوا ہے جبکہ گرنے والے طیارے کرپشن کی پول کھول رہے ہیں۔ تیجس کے حادثے نے ’’میک اِن انڈیا‘‘ کے کھوکھلے دعوؤں اور کرپشن زدہ دفاعی صنعت کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی عوام عوام نے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔