آزاد سکھ ریاست بناکر رام مندر کی جگہ بابری مسجد تعمیر کریں گے، گرپتونت سنگھ پنوں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
علیحدگی پسند تنظیم سکھس فار جسٹس نے کہا ہے کہ بابری مسجد کو اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا جہاں اس وقت رام مندر واقع ہے۔ تنظیم نے وزیراعظم نریندر مودی کے ایودھیا میں مجوزہ پروگرام کو ‘ہندوتوا دہشت گردی کی جنم بھومی’ قرار دیا۔
تنظیم کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں نے 25 نومبر کو مودی کے ایودھیا دورے سے قبل ملک بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایودھیا کا محاصرہ کرنے اور ایک بڑی انسانی زنجیر تشکیل دینے کے لیے جمع ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مسلمانوں کو ہندستان میں بقا چاہیے تو انہیں اپنے دین اور تاریخ کے دفاع کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور پریس کلب سے خطاب کرنے پر خالصتانی رہنما گرپتونت سنگھ پنوں پر انڈیا میں مقدمہ درج
گرپتونت سنگھ پنوں نے اس مقصد کے لیے مودی کے ایودھیا پروگرام کی مخالفت کرنے والوں کے لیے 11 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا۔ پنوں کا کہنا تھا کہ جب پنجاب آزاد ہو کر خالصتان بنے گا تو بابری مسجد وہیں دوبارہ تعمیر ہوگی جہاں آج رام مندر کھڑا ہے۔ تاریخ کو نہ بلڈوزر بدل سکتے ہیں اور نہ ہندوتوا کے ہجوم۔
انہوں نے رام مندر کو ایک سیاسی تنازع کا شاخسانہ اور بابری مسجد کی مسماری کے بعد وجود میں آنے والی علامت قرار دیا۔ پنوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ خالصتان کے جھنڈے اتر پردیش کے مختلف علاقوں میں لہرا کر عالمی سطح پر یہ دکھایا جائے گا کہ مودی نے ایک صدیوں پرانی مسجد کی مسماری کو قومی جشن اور سیاسی تماشے میں بدل دیا۔
یہ بھی پڑھیے: مودی کی جنگ بھارت کی آخری جنگ ہوگی، خالصتان حقیقت کے قریب ہے، گرپتونت سنگھ پنوں
ایس ایف جے کا کہنا ہے کہ ایودھیا ابھی بھی بھارت کا سب سے ‘بارودی اور غیر حل شدہ تاریخی تنازع’ ہے، اور ان کے مطابق نہ پروپیگنڈا، نہ تعمیرات اور نہ ہی سیاسی تقریبات اس حقیقت کو مٹا سکتی ہیں کہ بابری مسجد کو غیر قانونی طور پر مسمار کیا گیا تھا اور یہ تاریخی ناانصافی الٹی بھی جا سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بابری مسجد خالصتان رام مندر گرپتونت سنگھ پنوں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خالصتان گرپتونت سنگھ پنوں گرپتونت سنگھ پنوں کے لیے
پڑھیں:
پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
ویب ڈیسک: پی ٹی اے نے ملک بھر کے موبائل فون صارفین کے لیے ایک اہم اور تنبیہی پیغام جاری کیا ہے جس میں اپنی نام پر رجسٹرڈ سمز کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے خبردار کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اپنی شناخت پر جاری شدہ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قانوناً جرم ہے کیونکہ آپ کے نام پر موجود سم کسی بھی غیر قانونی یا مجرمانہ کارروائی میں استعمال ہو سکتی ہے۔
صارفین کی سہولت اور حفاظت کے لیے پی ٹی اے نے ہدایت کی ہے کہ شہری یہ چیک کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں فعال ہیں،اس معلومات کیلئے صارفین cnic.sims.pk ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں یا اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر کسی ڈیش (-) کے 668 پر ایس ایم ایس کر کے تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اگر شناختی کارڈ پر کوئی نامعلوم یا بلا ضرورت سم نظر آئے تو اسے فوری طور پر بلاک کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محفوظ خریداری اور بائیو میٹرک کا احتیاطی استعمال
پی ٹی اے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئی سم کی خریداری کے لیے ہمیشہ صرف مستند فرنچائز یا آفیشل کسٹمر سروس سینٹر کا ہی انتخاب کریں اور اس بات کی مکمل تصدیق کریں کہ آپ کی اجازت یا علم کے بغیر کوئی بھی سم رجسٹر نہ کی جا رہی ہو۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اس سے قبل بھی پی ٹی اے کی جانب سے شہریوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ مفت سم کا لالچ دے کر بائیو میٹرک تصدیق کروانے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔
ایسے دھوکے باز آپ کی بائیو میٹرک کا غلط استعمال کر کے آپ کی معلومات پر کوئی اور سم بھی جاری کروا سکتے ہیں، جس کا خمیازہ بعد میں اصل صارف کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔