مزاحمت کا نیا دور — امریکہ کے خواب چکنا چور
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
ویلاگ اسلام ٹائمز اردو کی پیشکش ہے، جس میں اہم خبروں سے متعلق مفید تبصرے پیش کئے جاتے ہیں۔ ہر ہفتے کے روز، مختصر و مفید ویلاگز، دیکھنے و سننے والوں کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے۔ سامعین سے گزارش ہے کہ یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں اور اپنی مفید آراء سے مطلع فرمائیں۔ متعلقہ فائیلیںIslam Times V Log 15-11-2025 اسلام ٹائمز وی لاگ
Middle East on Fire: Resistance Rises — From Lebanon to Pakistan
مزاحمت کا نیا دور — امریکہ کے خواب چکنا چور
عراق سے پاکستان تک — بیداری کی لہر
دنیا بدل رہی ہے.
ہفتہ وار پروگرام : اسلام ٹائمزوی لاگ وی لاگر: سید عدنان زیدی پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
پروگرام کا خلاصہ:!
اس وی لاگ میں
مشرقِ وسطیٰ میں کس طرح مزاحمت کی نئی لہر اٹھی ہے — لبنان سے ایران، شام، عراق، یمن اور سوڈان تک۔
حزب اللہ کے دوٹوک مؤقف سے لے کر ایران کی سخت وارننگ تک، اور عراق کے انتخابات میں مزاحمتی گروپوں کی تاریخی کامیابی تک — سب کچھ بدل رہا ہے۔
ساتھ ہی پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری اور دیگر رہنماؤں کے احتجاج نے ایک نیا باب کھول دیا ہے۔
یہ وی لاگ بتائے گا کہ آزادی بمقابلہ غلامی کی جنگ صرف بندوق کی نہیں بلکہ شعور، اتحاد اور ایمان کی جنگ ہے۔
اپنی رائے ضرور دیں
کیا دنیا واقعی ایک نئے عالمی دور میں داخل ہو چکی ہے؟
#MiddleEastUpdate
#LebanonNews
#PakistanPolitics
#IraqElections2025
#ResistanceMovement
#GlobalShift
#BreakingNews
#adnanzaidi
#itimesvlogs
#VoiceOfTruth
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلام ٹائمز
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔