گفتگو کے اختتام پر عراقی وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے دور میں بھی ہم ایرانی برادران کے ساتھ تمام شعبوں میں دوطرفہ اور علاقائی تعلقات مضبوط تر بنانے کے خواہاں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے عراق کے وزیراعظم محمد شیاع السودانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں پارلیمانی انتخابات کا شاندار انعقاد اس عظیم ملت کی شان و بلند مرتبہ حیثیت میں اضافہ ہے۔ تسنیم نیوز کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے عراق کے وزیراعظم سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے عراق میں حال ہی میں ہونے والے شکوہ مند اور پُرسکون پارلیمانی انتخابات کو ایک عظیم کامیابی اور عراق کی برادر، عزیز اور دوست ملت کی عظمت و وقار میں اضافہ قرار دیا۔

ایرانی صدر نے ان انتخابات میں السودانی کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے آنے والے دور میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات اور باہمی تعاون پہلے سے زیادہ مخلصانہ، گہرے اور وسیع ہوں گے۔ عراق کے وزیراعظم نے جواب میں ڈاکٹر پزشکیان کی فون کال اور برادرانہ مبارکباد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دونوں اقوام کے قریبی رشتے اور ایرانی بھائیوں کی جانب سے ملتِ عراق کی سعادت اور کامیابی کے لیے خصوصی توجہ کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات 2003 میں عراق کے سیاسی نظام کی تبدیلی کے بعد چھٹا پارلیمانی انتخاب تھا، جو پورے ملک میں شفاف، پُرسکون اور کامیاب رہا۔ محمد شیاع السودانی نے اس انتخابات کی سب سے اہم کامیابی یہ قرار دی کہ 2015 کے بعد سے اب تک عوام کی سب سے زیادہ شرکت دیکھنے میں آئی، جو عراق کے سیاسی نظام پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملتِ عراق نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ اپنے حاصل کردہ جمہوری تجربے اور نظام پر قائم اور وفادار ہیں، امید ہے کہ ان انتخابات کے نتائج عراق کی تعمیر و ترقی کے جاری سفر میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ گفتگو کے اختتام پر عراقی وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے دور میں بھی ہم ایرانی برادران کے ساتھ تمام شعبوں میں دوطرفہ اور علاقائی تعلقات مضبوط تر بنانے کے خواہاں ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عراق کے عراق کی کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا