بار بار کی تاریخوں کی تبدیلی کے بعد وفاقی حکومت نے 11ویں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا افتتاحی اجلاس 4 دسمبر کو طلب کر لیا ہے، تاکہ افقی اور عمودی وسائل کی تقسیم سے متعلق تکنیکی، مالی اور قانونی مباحث پر آئندہ بات چیت کے لیے بنیادی طریقہ کار طے کیا جا سکے۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صوبوں کو بھیجے گئے نوٹسز کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اس پہلے اجلاس میں 3 نکاتی ایجنڈا زیر غور آئے گا۔

اجلاس کا آغاز اس عمومی بحث سے ہوگا کہ موضوعاتی شعبوں پر غور کے لیے ذیلی گروپس کی تشکیل وغیرہ کے علاوہ 11ویں این ایف سی ایوارڈ پر غور کے لیے حکمتِ عملی کیا ہو۔

اس کے بعد چاروں صوبائی حکومتوں اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے اپنی اپنی مالی صورتحال پر 10، 10 منٹ کی پریزنٹیشنز ہوں گی، آخر میں کمیشن آئندہ این ایف سی اجلاسوں کے لیے شیڈول اور وقت کا تعین کرے گا، جو غالب امکان ہے کہ تمام وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں ہوں گے، یہاں تک کہ کمیشن اپنی مشاورت مکمل کر لے۔

ذرائع نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ وزارتِ خزانہ نے اس سے پہلے 3 دسمبر کو اجلاس بلانے کے نوٹس صوبوں کو ایجنڈے سمیت بھجوائے تھے، مگر اسی روز تاریخ بدل کر 4 دسمبر کر دی گئی تھی۔

11واں این ایف سی 22 اگست کو تشکیل دیا گیا تھا، تاکہ وفاقی قابلِ تقسیم محاصل کی تقسیم کے لیے ایک نیا ایوارڈ طے کیا جا سکے۔

پہلا اجلاس اصل میں 27 اگست کے لیے رکھا گیا تھا، پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر 29 اگست تک مؤخر کر دیا گیا تھا، یہ اجلاس بھی سندھ حکومت کی سیلاب سے متعلق مصروفیات کے سبب مزید ملتوی ہوا تھا، بعد ازاں اجلاس 17 نومبر، پھر 18 نومبر کے لیے طے ہوا، لیکن وزیر اعظم آفس کی خواہش پر دوبارہ مؤخر کر دیا گیا تھا۔

وزیر خزانہ اورنگزیب کی سربراہی میں این ایف سی میں چاروں صوبائی وزرائے خزانہ اور 4 غیر سرکاری ارکان (ہر صوبے سے ایک) شامل ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 160 کی شق 2 میں دیے گئے ضابطہ کار کے مطابق، کمیشن 5 بڑی ٹیکس کیٹیگریز سے حاصل ہونے والی خالص آمدنی کی وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم پر سفارشات مرتب کرے گا، ان کیٹیگریز میں انکم ٹیکس شامل ہے، جس میں کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور کارپوریٹ ٹیکس شامل ہیں، لیکن وفاقی مجموعی فنڈ سے ادا ہونے والی تنخواہوں پر عائد ٹیکس اس سے مستثنیٰ ہے۔

فہرست میں ان ٹیکسوں کی مد بھی شامل ہے جو درآمد شدہ، برآمد شدہ، تیار کردہ، فروخت شدہ یا استعمال شدہ اشیا پر لاگو ہوتے ہیں، کپاس اور دیگر برآمدی ڈیوٹی جو صدر بتائیں، ایکسائز ڈیوٹی، اور کوئی دیگر ٹیکس جسے صدر مقرر کریں۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کو دی جانے والی مالی معاونت (گرانٹس) پر بھی سفارشات مرتب کی جائیں۔

نیا این ایف سی ان امور کا بھی جائزہ لے گا کہ صوبائی دائرہ اختیار کے معاملات پر وفاق نے جو اخراجات کیے ہیں یا کرنے ہیں، ان کا بوجھ کس طرح تقسیم ہو، سرحد پار یا بین الصوبائی معاملات پر اخراجات کی ذمہ داری کیسے تقسیم کی جائے، اور قومی نوعیت کے منصوبوں کے لیے مالی ضرورت کیسے پوری کی جائے جو وفاق اور صوبے مشترکہ طور پر فنڈ کریں گے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تجاویز کے مطابق، وفاق چاہتا ہے کہ قدرتی آفات، افقی نوعیت کے صحت پروگرامز، بڑے ڈیموں، شاہراہوں اور موٹرویز کے اخراجات میں صوبے بھی اپنا حصہ ڈالیں۔

وفاق یہ بھی چاہتا ہے کہ موجودہ آبادی پر مبنی فارمولے کو ختم کیا جائے اور اس کی جگہ سماجی شعبے کی کارکردگی اور مقامی حکومتوں کی فعالیت کو معیار بنایا جائے۔

این ایف سی وفاق کی طرف سے صوبوں کو دی جانے والی گرانٹس، وفاق اور صوبوں کے قرض لینے کے اصول اور شرائط، اور آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) کے حکومتی اخراجات کے لیے وسائل کی فراہمی پر بھی سفارشات دے گا۔

2009 میں جاری ہونے والے 7ویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کا حصہ قابلِ تقسیم محاصل میں 47 فیصد سے بڑھا کر 57.

5 فیصد کر دیا گیا تھا۔ بعد میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے لیے خصوصی اضافوں کے بعد یہ حصہ مزید بڑھ کر تقریباً 59 فیصد ہو گیا، یوں وفاق کا حصہ گھٹ کر 42.5 فیصد رہ گیا۔

بعد کے برسوں میں، تاہم وفاق نے تقریباً ڈیڑھ کھرب روپے پیٹرولیم لیوی نافذ کی اور صوبوں سے تقریباً اتنی ہی رقم نقد بیلنس کی مد میں حاصل کی، جس سے مالی توازن دوبارہ وفاق کے حق میں جھک گیا۔

صوبے اپنی یہ ذمہ داری پوری نہ کر سکے کہ وہ ہر سال اپنی آمدنی جی ڈی پی کا 0.5 فیصد بڑھائیں، اسی طرح وفاق بھی اپنی آمدنی کو سالانہ جی ڈی پی کا ایک فیصد بڑھانے کا وعدہ پورا نہ کر سکا۔

موجودہ سال کے لیے وفاقی حکومت پہلے ہی اپنی معاشی شرحِ نمو کی پیشگوئی 0.7 فیصد کم کر چکی ہے، جس کی وجہ سیلاب سے ہونے والا نقصان بتایا گیا ہے۔

متعدد حلقے، بشمول وزارتِ خزانہ، مسلح افواج اور آئی ایم ایف، بارہا زور دے رہے ہیں کہ قابلِ تقسیم محاصل کا بڑا حصہ وفاق کو ملنے کے لیے توازن دوبارہ مرتب کیا جائے۔

تاہم آئین کے مطابق صوبوں کے حصے کسی بھی این ایف سی ایوارڈ میں کم نہیں کیے جا سکتے، ایوارڈ کا اجرا پانچوں فریقین (وفاق اور چاروں صوبوں) کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔

صوبوں کو ان کے حصے آبادی، غربت، آمدنی کی پیداوار اور الٹی آبادی کی بنیاد پر ملتے ہیں، موجودہ فارمولے کے مطابق پنجاب کو 51.74 فیصد، سندھ کو 24.55 فیصد، خیبر پختونخوا کو 14.62 فیصد اور بلوچستان کو 9.09 فیصد حصہ ملتا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف این ایف سی کے باضابطہ اجلاس سے قبل اہم اتحادیوں کی سیاسی قیادت سے مشاورت کریں گے، اگرچہ کمیشن میں ان کا کوئی باقاعدہ کردار نہیں۔

این ایف سی کے اصولوں میں تبدیلی کا معاملہ اصل میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کا حصہ تھا، جس کے تحت وفاق صوبوں کے حصے کم کرنا چاہتا تھا اور کچھ منتقل شدہ اختیارات (جیسے تعلیم اور آبادی) واپس لینا چاہتا تھا۔

تاہم بعد میں وفاقی حکومت نے اپنی بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی مفاہمت کے تحت اس مطالبے سے پیچھے ہٹتے ہوئے توجہ مسلح افواج اور عدلیہ سے متعلق ترامیم کی طرف مبذول کر دی تھی۔

اس کے باوجود وزیر اعظم این ایف سی کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وفاقی حکومت دیا گیا تھا ایف سی کے مطابق صوبوں کو وفاق اور صوبوں کے کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن