رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز کی کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
ایس آئی اے کی ٹیموں نے جمعرات کو صبح سویرے پولیس افسران ہمراہ سے جموں میں کشمیر ٹائمز دفتر کی تلاشی لی اور وہاں موجود دستاویزات اور کمپیوٹرز کو ضبط کر لیا، اسلام ٹائمز۔ صحافتی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم عالمی تنظیم ”رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز“ نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں معروف انگریزی روز نامے ”کشمیر ٹائمز“ کے دفتر پر بھارتی تحقیقاتی ادارے ”سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی“ (ایس آئی اے ) کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے اخبار اور اس کی ایگزیکٹو ایڈیٹر پر لگائے جانے والے جھوٹے الزامات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ”رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز“ نے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ جموں میں کشمیر ٹائمز کے ادارتی دفاتر چار سال سے بند ہیں، ایس آئی اے نے اسکے باوجود ان پر چھاپہ مارا اور پیشہ ورانہ سازو سامان ضبط کیا۔ رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز خطے کے چند آزاد میڈیا اداروں میں سے ایک پر اس ناقابل قبول حملے کی مذمت کرتا ہے اور اخبار اور اس کے ایڈیٹر انچیف کے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایس آئی اے کی ٹیموں نے جمعرات کو صبح سویرے پولیس افسران ہمراہ سے جموں میں کشمیر ٹائمز دفتر کی تلاشی لی اور وہاں موجود دستاویزات اور کمپیوٹرز کو ضبط کر لیا، اس حقیقت کے باوجود کہ اخبار کے دفاتر 2021ء سے استعمال سے باہر ہیں۔
ایس آئی اے نے مبینہ کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھسین کے خلاف ایک شکایت (ایف آئی آر) درج کرائی جو اس وقت بیرون ملک رہتی ہیں۔ ایس آئی اے نے دعوی کیا کہ بھسین اور ان کے اخبار نے ایسا مواد شیئر کیا ہے جس سے بھارت کی خودمختاری اور سالمیت کو خطرہ ہے۔ یاد رہے کہ کشمیر ٹائمز 1954ء میں شروع کیا گیا تھا جسے خطے کے بارے میں معلومات کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بھارتی حکام نے حالیہ برسوں میں اخبار کو کئی مرتبہ حملوں کا نشانہ رہا ہے کیونکہ یہ جموں و کشمیر کے بارے میں بھارت کی جابرانہ پالیسی کا سخت ناقد ہے۔ رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر ٹائمز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرے اور میڈیا آوٹ لیٹ اور اس کی ایگزیکٹوایڈیٹر کے خلاف جھوٹے الزامات کو ختم کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز کشمیر ٹائمز ایس آئی اے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔