امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ 27 ویں ترمیم والے سن لیں کہ اللہ کے نزدیک کسی وڈیرے جاگیردار، آرمی چیف یا صدر کو استثنیٰ حاصل نہیں، حکمران سمجھ لیں کہ اگر فلسطین کے مسئلے پر ابراہم ایکارڈ کا حصہ بننے کی کوشش کی گئی تو 25 کروڑ عوام انہیں نشانِ عبرت بنادیں گے، 78 سال قبل لاہور مینار پاکستان میں قرارداد پاکستان کیساتھ ایک اور قرارداد اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی بھی شامل تھی۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے تحت مینار پاکستان لاہور میں ملک گیر اجتماع عام ’’بدل دو نظام ‘‘ جاری ہے۔ اجتماع میں ملک کے تمام صوبوں سے بڑی تعداد میں مردوخواتین و مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد شریک ہیں۔ امیر جماعت اسلامی کے خطاب سے قبل اجتماع میں شریک افراد نے کھڑے ہوکر قومی ترانہ پڑھا۔ حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجتماع عام کا سلوگن بدل دو نظام ہے، ہم ایسا نظام چاہتے ہیں کہ جس میں حاکمیت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہونی چاہیے، پاکستان میں موجود دستور قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہونا چاہیے، دستور کے مطابق قرآن و سنت کے منافی کسی بھی قسم کی قانون سازی کسی صورت نہیں کی جائے گی۔ 78 سال سے موجود ملک پر قابض انگریزوں کے غلاموں، حکمران ٹولے نے قوم کو ناامیدی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔
 
انہوں ںے کہا کہ جماعت اسلامی قوم کو مایوس نہیں چھوڑ سکتی، ہم نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، پورے ملک سے آئے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ 27 ویں ترمیم والے سن لیں کہ اللہ کے نزدیک کسی وڈیرے جاگیردار، آرمی چیف یا صدر کو استثنیٰ حاصل نہیں، حکمران سمجھ لیں کہ اگرفلسطین کے مسئلے پر ابراہم ایکارڈ کا حصہ بننے کی کوشش کی گئی تو 25 کروڑ عوام انہیں نشانِ عبرت بنادیں گے، 78 سال قبل لاہور مینار پاکستان میں قرارداد پاکستان کیساتھ ایک اور قرارداد اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی بھی شامل تھی، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، امریکہ انسانیت کا کھلا دشمن ہے جس نے ہیروشیما ناگاساکی پر بمباری کی، امریکہ خود ریڈ انڈین کو قتل کرکے وجود میں آیا تھا، یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ہر وہ قرارداد جو مظلوم کے حق پہ ہو اس پر ویٹو کردیا جاتا ہے۔
 
 انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر کے معاملے پر کسی بھی قسم کی سودے بازی قبول نہیں کی جائے گی۔ پاک، بھارت جنگ میں پوری قوم نے مل کر فوج کا ساتھ دیا لیکن ہمارے حکمرانوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے کہنے پر جنگ بندی کی، اگر یہ جنگ 2 روز اور جاری رہتی تو بھارت کو آئندہ کبھی بھی حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوتی، ٹرمپ نے جنگ بندی میں مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا، حکمران بتائیں کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر کیوں بات نہیں کی گئی۔ پاکستان کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے۔ اجتماع عام کے تیسرے اور آخری روز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اور ظلم کے نظام کی خلاف ملک میں ہر کونے سے زبردست تحریک شروع کیا جائے گی، آج انٹرنیشنل سیشن میں 45 ممالک سے 120مندوبین شریک ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نہیں کی لیں کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم