data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد ( اسٹاف رپورٹر)تنظیم خادم انسانیت حیدرآبادکی جانب سے بچوں کا عالمی دن منا یا گیا اس موقع پر سجاد خان چیر مین تنظیم خادم انسانیت حیدرآباد نے کہا ہر سال 20 نومبر کو دنیا بھرم بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد بچوں کے حقوق، ان کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، تحفظ اور بہتر مستقبل کے لیے مؤثر اقدامات کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن اقوامِ متحدہ نے 1954 میں مقرر کیا تھا تاکہ دنیا بھر میں بچوں کے لیے امن، خوشحالی اور مساوی مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔نعیم شیخ جنرل سیکریٹری Tkih-ngo Khadim E Insaniatابچوں کے عالمی دن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ:بچوں کے حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے بچوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں، استحصال اور تشدد کے خلاف آواز اٹھائی جائے تعلیم، صحت اور کھیل کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا جائے معاشرے کو یہ احساس دلایا جائے کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں اور ان کی مناسب رہنمائی ہی مضبوط معاشرہ تشکیل دیتی ہے سرکاری اور غیر سرکاری سرگرمیاںدنیا بھر میں مختلف ادارے اس دن کی مناسبت سے پروگرام ترتیب دیتے ہیں، جن میں شامل ہیں:اسکولوں میں تقریبات، تقریری مقابلے اور مشاعرے بچوں کے حقوق پر سیمینارز اور ورکشاپس غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے آگاہی مہمات بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کی نمائش (پینٹنگ، کہانی نویسی، ڈرامہ)میڈیا کے ذریعے خصوصی نشریات پاکستان میں سرگرمیاںپاکستان میں اس دن کے موقع پر یونیسف اور دیگر ادارے بچوں کی صحت، تعلیم اور تحفظ کے حوالے سے رپورٹس جاری کرتے ہیںمختلف اسکولز بچوں کے ٹیلنٹ شوز، تقریری مقابلے اور ڈرامے کرواتے ہیںحکومت اور سول سوسائٹی بچوں کی بہبود کے منصوبوں پر روشنی ڈالتی ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عالمی دن بچوں کے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا