خواتین اسٹاف کیلیے عبایہ لازمی قرار دینے والے اسلامی بینکوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسلامی بینکوں کی جانب سے خواتین اسٹاف کے لیے عبایہ لازمی قرار دینے کے خلاف اسٹیٹ بینک کو کارروائی کی ہدایت کردی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں ایف بی آر کی طرف سے صدارتی احکامات نہ ماننے کا معاملہ زیر غور آیا۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے بتایا کہ فیڈرل ٹیکس محتسب کئی ٹیکس معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا قانون میں واضح ہے کہ کن معاملات میں ٹیکس محتسب مداخلت نہیں کرسکتا، کمیٹی نے اپنی سفارشات دے دی ان پر عمل درآمد ہو جائے گا۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ اس معاملے میں ایف ٹی او مداخلت نہیں کر سکتا تھا اس فیصلے کو نظرثانی کیلئے دوبارہ صدر مملکت کے پاس بھیجا جائے۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ صدر کے پاس فیصلے کا اختیار ہے اگر ایف ٹی او کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں بھی ہے تو صدر کے پاس اختیار ہے۔
نمائندہ صدر آفس نے کہا کہ صدر نے کلاسیفیکیشن کے بارے فیصلہ نہیں دیا، انھوں نے فرد کو ریلیف دیا ہے ماضی میں کئی افراد کو صدر مملکت کی طرف سے استثناء دیا گیا ہے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کمیٹی کا موقف ہے کہ صدر مملکت کے احکامات پر عمل درآمد کیا جائے۔
کمیٹی کو سینیٹر زرقا سہروردی نے بتایا کہ اسلامی بینکوں نے خواتین اسٹاف کے لیے عبایا لازمی کر دیا ہے۔ چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اس پر وضاحت دے کہ بینک کس طرح یہ شرط کس طرح عائد کر سکتے ہیں؟
نمائندہ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے بھی یہ چیز نوٹ کی ہے ایسا سارے اسلامی بینکوں میں نہیں ہے البتہ کچھ میں ایسا کیا گیا ہے، اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو اس قسم کی کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بینکوں کو زبردستی عبایا پہنانے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک ہدایات جاری کرے، شلوار قمیص اور دوپٹہ بہترین اسلامی لباس ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ یہ اسلامی بینکوں کی مارکیٹنگ کا طریقہ کار ہے۔
چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ملک میں اسلامی بینکاری صرف نام کی اسلامی ہے باقی سارا طریقہ کار پرانا والا ہے، اسٹیٹ بینک ہدایات جاری کرے ورنہ ایسے بینکوں کو کمیٹی میں طلب کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سلیم مانڈوی والا اسلامی بینکوں اسٹیٹ بینک نے کہا کہ کے پاس
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔