اسلام آباد:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسلامی بینکوں کی جانب سے خواتین اسٹاف کے لیے عبایہ لازمی قرار دینے کے خلاف اسٹیٹ بینک کو کارروائی کی ہدایت کردی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں ایف بی آر کی طرف سے صدارتی احکامات نہ ماننے کا معاملہ زیر غور آیا۔

چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے بتایا کہ فیڈرل ٹیکس محتسب کئی ٹیکس معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا قانون میں واضح ہے کہ کن معاملات میں ٹیکس محتسب مداخلت نہیں کرسکتا، کمیٹی نے اپنی سفارشات دے دی ان پر عمل درآمد ہو جائے گا۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ اس معاملے میں ایف ٹی او مداخلت نہیں کر سکتا تھا اس  فیصلے کو نظرثانی کیلئے دوبارہ صدر مملکت کے پاس بھیجا جائے۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ صدر کے پاس فیصلے کا اختیار ہے اگر ایف ٹی او کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں بھی ہے تو صدر کے پاس اختیار ہے۔

نمائندہ صدر آفس نے کہا کہ صدر نے کلاسیفیکیشن کے بارے فیصلہ نہیں دیا، انھوں نے فرد کو ریلیف دیا ہے ماضی میں کئی افراد کو صدر مملکت کی طرف سے استثناء دیا گیا ہے۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کمیٹی کا موقف ہے کہ صدر مملکت کے احکامات پر عمل درآمد کیا جائے۔

کمیٹی کو سینیٹر زرقا سہروردی نے بتایا کہ اسلامی بینکوں نے خواتین اسٹاف کے لیے عبایا لازمی کر دیا ہے۔ چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اس پر وضاحت دے کہ بینک کس طرح یہ  شرط کس طرح عائد کر سکتے ہیں؟

نمائندہ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے بھی یہ چیز نوٹ کی ہے ایسا سارے اسلامی بینکوں میں نہیں ہے البتہ کچھ میں ایسا کیا گیا ہے، اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو اس قسم کی کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بینکوں کو زبردستی عبایا پہنانے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک ہدایات جاری کرے، شلوار قمیص اور دوپٹہ بہترین اسلامی لباس ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ یہ اسلامی بینکوں کی مارکیٹنگ کا طریقہ کار ہے۔

چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ملک میں اسلامی بینکاری صرف نام کی اسلامی ہے باقی سارا طریقہ کار پرانا والا ہے، اسٹیٹ بینک ہدایات جاری کرے ورنہ ایسے بینکوں کو کمیٹی میں طلب کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سلیم مانڈوی والا اسلامی بینکوں اسٹیٹ بینک نے کہا کہ کے پاس

پڑھیں:

کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا

فائل فوٹو 

کراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔

ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی،  ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا