کراچی: سیف سٹی کیمرے کا ڈسٹری بیوشن باکس چوری ہوگیا: ڈی آئی جی ساؤتھ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
کراچی کے علاقے کلفٹن میں بلاول ہاؤس کے قریب سیف سٹی کیمرے کا ڈسٹری بیوشن باکس مبینہ طور پر چوری ہو گیا۔
اس حوالے سے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ چوری ہونے والا ڈسٹری بیوشن باکس سیف سٹی کیمروں کو بہتر سروس فراہم کرنے میں مدد کرتا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین کے مطابق ایک گاڑی کی مدد سے ڈسٹری بیوشن باکس پر کام کیا جارہا تھا، سیف سٹی کیمروں اور اس سے منسلک سامان میں کوئی سیکیورٹی یا الارم سسٹم بھی نہیں تھا۔ یہ واقعہ 6 نومبر کو ہوا تاحال کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
انہوں نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن باکس کافی اونچا اور وزنی ہے اسے چوری کرنا آسان عمل نہیں، ڈسٹری بیوشن باکس کیسے غائب ہوا، یہ معلوم کرنے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر رہے ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا، موصول ہونے والی اطلاعات پر واقعے سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ڈی جی سیف سٹی پروجیکٹ آصف اعجاز شیخ کا کہنا ہے کہ چوری کے بعد سیف سٹی کیمرے اتار لیے گئے ہیں، ڈسٹری بیوشن باکس میں لاکھوں روپے مالیت کا سامان ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈسٹری بیوشن باکس کا کہنا ہے کہ سیف سٹی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔