اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے ختم کرنے کا عدالتی حکم معطل کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے ختم کرنے کا عدالتی حکم معطل کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 13 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے سی ڈی اے ختم کرنے کا سنگل بینچ کا حکم معطل کر دیا۔
ڈویژن بینچ نے جسٹس محسن اختر کیانی کا حکم معطل کیا۔ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے تحریری حکم جاری کر دیا۔
عدالت نے 19 جون کا سی ڈی اے ختم کرنے کی حد تک فیصلہ معطل کیا ہے، سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل میں عدالت نے حکم معطل کیا۔
انٹرا کورٹ اپیل پر مزید سماعت عدالت نے دسمبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ سنگل بینچ جسٹس محسن اختر کیانی نے سی ڈی اے ختم کرنے کا پراسس شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران میں پانی کا بحران سنگین، تہران کے خالی ہونے کا خدشہ ایران میں پانی کا بحران سنگین، تہران کے خالی ہونے کا خدشہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کےالتوا کے معاملے پر فیصلہ محفوظ، چیف الیکشن کمشنر کے اہم ریمارکس علیمہ خان کے 10ویں بار ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ستائیسویں آئینی ترمیم کا نیا متن آج سینیٹ سے منظور کرایا جائے گا امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن ختم، سینیٹ اور ایوان نمائندگان نے تاریخی بل منظور کر لیا آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد کل وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس طلب،اہم فیصلے متوقعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے سی ڈی اے ختم کرنے کا اسلام ا باد کر دیا
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔